اہم ترین

اے آئی جونیئر پروگرامرز کے روزگار کا دشمن بن گیا

مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید کوڈنگ ٹولز نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں سافٹ ویئر تیار کرنے کا طریقہ بدل دیا ہے، جس کے باعث کمپنیوں میں جونیئر پروگرامرز کی مانگ کم جبکہ تجربہ کار انجینئرز کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔

آن لائن گفٹ پلیٹ فارم گفٹوری کے سربراہ ایرک لاؤر کا کہنا ہے کہ وہ اب نئے گریجویٹس کے بجائے ایسے مڈ کیریئر سافٹ ویئر انجینئرز کو ترجیح دیتے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے کوڈنگ ٹولز کو مؤثر انداز میں استعمال کرکے کم وقت میں زیادہ کام کر سکیں۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں میں اینتھروپک کے کلاؤڈ ایکس اور اوپن اے آئی کے کوڈیکس جیسے اے آئی ٹولز کی مدد سے اب چھوٹی ٹیمیں بھی وہ سافٹ ویئر تیار کر رہی ہیں جن کے لیے پہلے درجنوں پروگرامرز درکار ہوتے تھے۔ ان ٹولز کی بدولت پروگرامرز اب ہر لائن خود لکھنے کے بجائے اے آئی کو ہدایات دے کر کوڈ لکھواتے، جانچتے اور خامیاں دور کرواتے ہیں۔

صنعتی سروے کے مطابق چھوٹے اسٹارٹ اپس کے تقریباً 75 فیصد ڈویلپرز کلاؤڈ کور استعمال کر رہے ہیں، جبکہ وائے کومبینیٹر کے 2025 کے ایک بیچ میں شامل تقریباً 25 فیصد اسٹارٹ اپس کا 95 فیصد کوڈ اے آئی کے ذریعے تیار کیا گیا۔

کمپنیاں اس تبدیلی سے بڑے پیمانے پر مالی فائدہ بھی اٹھا رہی ہیں۔ گفٹوری اپنے ملازمین کو تقریباً 200 ڈالر ماہانہ کا اے آئی سبسکرپشن فراہم کرتی ہے، جو ایک سافٹ ویئر انجینئر کی اوسط سالانہ تنخواہ کے مقابلے میں نہایت کم لاگت ہے۔ کئی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اے آئی کے استعمال سے انہیں سالانہ لاکھوں ڈالر کی بچت ہو رہی ہے۔

دوسری جانب تحقیقی رپورٹس کے مطابق اے آئی کے بڑھتے استعمال کے باعث 22 سے 25 سال کے نوجوانوں کے لیے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ سمیت کئی شعبوں میں ملازمتوں کے مواقع نمایاں طور پر کم ہوئے ہیں۔ ایک تحقیق میں انٹری لیول بھرتیوں میں تقریباً 9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ سینئر ملازمین کی طلب برقرار رہی۔

تاہم اس رجحان پر اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ امیزون ویب سروسز کے سی ای او میٹ گارمن نے جونیئر پروگرامرز کو اے آئی سے بدلنے کے خیال کو انتہائی غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر نوجوانوں کو مواقع نہ دیے گئے تو مستقبل کی ٹیک قیادت متاثر ہو سکتی ہے۔

اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیک انڈسٹری میں رجحان واضح ہے: کم افرادی قوت، زیادہ اے آئی، اور زیادہ پیداواری صلاحیت۔ یہی وجہ ہے کہ اب کمپنیوں کی توجہ نئی بھرتیوں کے بجائے مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال پر مرکوز ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستان