اہم ترین

اب پیٹرول ڈیزل کے دام بھی سونا چاندی کی طرح ہوں گے روز کے روز

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق اب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ماہانہ یا پندرہ روزہ بنیاد کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے مطابق مقرر کی جائیں گی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اوگرا روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کے نئے نرخوں کا تعین کرے گا اور انہیں اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گا۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جتنی تبدیلی آئے گی، اس کا اثر مقامی قیمتوں پر بھی نظر آئے گا۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل اور خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت 110 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، تاہم حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے 130 ارب روپے کے وسائل استعمال کیے اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بعض لیویز کی شرح بھی کم رکھی گئی۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم شعبے کو بتدریج ڈی ریگولیشن کی جانب لے جا رہی ہے تاکہ قیمتوں کا نظام زیادہ شفاف اور عالمی مارکیٹ سے ہم آہنگ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بین الاقوامی سطح پر تیل مہنگا ہونے کی صورت میں پاکستان بھی اس کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مستحق طبقات کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ آئل سیکٹر میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ خطے کی بڑھتی ہوئی کشیدگی نے توانائی کی عالمی صورتحال کو متاثر کیا ہے، تاہم حکومت نے مختلف ذرائع سے تیل کی فراہمی یقینی بنا کر ملک میں توانائی بحران پیدا نہیں ہونے دیا۔

حکومت کے اس نئے فیصلے کے بعد صارفین کو اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کے امکان کا سامنا ہوگا، جس کا براہ راست تعلق عالمی تیل مارکیٹ اور خطے کی صورتحال سے ہوگا۔

پاکستان