ایران نے 2026 کے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے الزام میں ایک افغان شہری کو پھانسی دے دی۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد احتجاج سے متعلق پھانسی دیے جانے والے افراد کی تعداد کم از کم 30 ہو گئی ہے۔
ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق غائم حسینی کو چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث ہونے کے الزام میں سزائے موت دی گئی۔ حکام کے مطابق اسے اسلحہ استعمال کرنے، خوف و دہشت پھیلانے، وسیع پیمانے پر عدم تحفظ پیدا کرنے اور قومی سلامتی و عوامی نظم کو شدید نقصان پہنچانے کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔
ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق غائم حسینی 21 سالہ افغان شہری تھا اور اسے اصفہان کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حسینی پر پولیس اہلکاروں میں سے ایک کو لات مارنے کا الزام تھا، تاہم حکام نے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جس سے ثابت ہو کہ اس کے اقدام کے نتیجے میں کسی پولیس اہلکار کی موت واقع ہوئی۔
تنظیم کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم نے مقدمے کو اجتماعی سزا اور سزائے موت کے من مانے استعمال کی مثال قرار دیا۔
غائم حسینی اصفہان میں چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے اسی مقدمے میں پھانسی پانے والا پانچواں شخص ہے۔ جولائی میں اسی مقدمے میں ایک اور افغان شہری، گل محمد محمدی، کو بھی پھانسی دی گئی تھی۔ ایران ہیومن رائٹس کے مطابق اس مقدمے میں کم از کم 12 افراد کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔
تنظیم کے مطابق جنگ کے دوران 19 مارچ سے سزائے موت پر عمل درآمد دوبارہ شروع ہونے کے بعد کم از کم 30 مظاہرین کو پھانسی دی جا چکی ہے، جن میں 28 افراد جنوری کے مظاہروں جبکہ دو افراد 2022 میں شروع ہونے والے ’’عورت، زندگی، آزادی‘‘ احتجاج سے متعلق مقدمات میں سزائے موت کا سامنا کرنے کے بعد پھانسی دیے گئے۔
ایران ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ مزید سیکڑوں مظاہرین کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے یا ان کے خلاف ایسے مقدمات قائم ہیں جن میں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ صرف اصفہان میں 70 سے زائد افراد ایسے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ایران میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعدد حکومتوں کا الزام ہے کہ تہران پھانسیوں کے ذریعے معاشرے میں خوف پیدا اور مزید احتجاج کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایران نے 2025 میں کم از کم 2,159 افراد کو پھانسی دی۔ گزشتہ ہفتے فرانس، برطانیہ اور کینیڈا سمیت 30 سے زائد ممالک نے بھی ایران میں سزائے موت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ احتجاج کرنے والوں کو اختلافِ رائے دبانے کے لیے پھانسی دی جا رہی ہے











