اہم ترین

گوگل نے طلبہ کے لیے نئے اے آئی اسٹڈی ٹولز متعارف کرا دیے

گوگل نے طلبہ کی تعلیم اور مطالعے میں مدد کے لیے سرچ اور جیمنائی میں متعدد نئے اے آئی فیچرز متعارف کرا دیے ہیں، جن میں انٹرایکٹو ویژولز، 3 ڈی سمولیشنز، حسبِ ضرورت کوئزز، اسٹڈی ہب اور فائلز سے اسٹڈی ڈاکیومنٹس تیار کرنے کی سہولت شامل ہے۔

گوگل سرچ میں طلبہ اب پیچیدہ موضوعات کو سمجھنے کے لیے اپنی ضرورت کے مطابق انٹرایکٹو ٹولز اور سمولیشنز تیار کر سکیں گے۔ مثال کے طور پر پی اچ اسکیل تلاش کرنے پر اے آئی اوور ویو بنیادی معلومات کو سمجھانے کے لیے ایک انٹرایکٹو ویژول پیش کرے گا۔ مزید سوال کرنے پر اے آئی موڈ مخصوص ضرورت کے مطابق نیا انٹرایکٹو تجربہ تیار کر سکے گا۔

طلبہ اب سرچ کے ذریعے کسی بھی مضمون، بشمول سائنس، ریاضی، ہیومینیٹیز اور غیر ملکی زبانوں کے لیے حسبِ ضرورت پریکٹس کوئزز بھی تیار کر سکیں گے۔ صارف مطلوبہ موضوع اور مقصد بتا کر انٹرایکٹو کوئز حاصل کر سکے گا۔

آنے والے ہفتوں میں گوگل لینس میں بھی نیا انٹرایکٹو لرننگ فیچر متعارف کرایا جائے گا۔ طلبہ کسی سوال یا اپنے کام کی تصویر اپ لوڈ کرکے اے آئی سے تصور کی وضاحت، ممکنہ غلطیوں کی نشاندہی اور مشکل مرحلے پر رہنمائی حاصل کر سکیں گے۔

گوگل نے سرچ میں فائلز سے اسٹڈی ڈاکیومنٹس تیار کرنے کی سہولت بھی شامل کی ہے۔ طلبہ پی ڈی ایف ، ڈاکیومنٹس، سلائیڈز یا ہاتھ سے لکھے نوٹس اپ لوڈ کرکے اہم نکات پر مشتمل مختصر مطالعاتی دستاویز تیار کرا سکیں گے۔

جیمنائی میں طلبہ اب ملٹی اسٹیپ ریسرچ رپورٹس بھی تیار کرا سکیں گے۔ جیمنائی لائیو میں صارف کسی موضوع پر تحقیق شروع کرکے گفتگو بند کر سکتا ہے یا کوئی دوسرا کام کر سکتا ہے۔ تحقیق مکمل ہونے پر اسے اطلاع دی جائے گی، جس کے بعد صارف آواز کے ذریعے نتائج پر مزید سوالات کر سکے گا۔

گوگل نے جیمنائی میں فعال 3 ڈی سمولیشنز کا فیچر بھی متعارف کرایا ہے۔ مثال کے طور پر ڈی این اے کے کام کرنے کے طریقے سے متعلق سوال پر صارف ایک انٹرایکٹو 3 ڈی ماڈل دیکھ سکے گا، جسے گھمایا اور زوم کیا جا سکے گا۔

اس کے علاوہ جیمنائی ایپ میں ایک نیا اسٹڈی ہب بھی متعارف کرایا جا رہا ہے، جہاں طلبہ اسٹڈی نوٹ بک شروع کرنے، فلیش کارڈز بنانے، پریکٹس کوئزز لینے اور دیگر تعلیمی ٹولز تک ایک ہی جگہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔

گوگل کے یہ نئے فیچرز ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کمپنی جیمنائی کو طلبہ کے لیے بنیادی اے آئی لرننگ اسسٹنٹ بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور اوپن اے آئی سمیت دیگر اے آئی اور ایجوکیشن ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مقابلہ کر رہی ہے۔

پاکستان