اہم ترین

لارڈز میں پاکستان کے لیے آزمائش، ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کی گنجائش محدود

لیڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد پاکستان کی ٹیم لارڈز پہنچ گئی ہے، جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا دوسرا ٹیسٹ کھیلا جائے گا۔ پاکستان کے پاس سیریز میں واپسی کے لیے مواقع تو موجود ہیں، مگر ٹیم کے پاس تبدیلیوں کے آپشنز محدود دکھائی دیتے ہیں۔

ہیڈنگلے میں پاکستان کو بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیم دو اننگز میں 90 اوورز بھی مکمل نہ ہونے سے پہلے آؤٹ ہوگئی، جبکہ بولرز بھی سازگار حالات کا بھرپور فائدہ نہ اٹھا سکے۔

لارڈز پاکستان کے لیے امید کی کرن ضرور ہے۔ پاکستان نے اپنے 13 میں سے 10 ٹیسٹ میچز لندن کے لارڈز یا اوول میں جیتے ہیں اور لندن میں کھیلے گئے آخری تین ٹیسٹ بھی پاکستان کے نام رہے ہیں، تاہم آخری کامیابی آٹھ سال قبل حاصل ہوئی تھی۔

اگر بابر اعظم فٹ ہوئے تو ان کی واپسی پاکستان کے لیے اہم تقویت ہوگی۔ بابر نے انگلینڈ کے خلاف تقریباً 54 کی اوسط سے رنز بنائے ہیں، جبکہ انگلینڈ میں ان کی ٹیسٹ اوسط 65.75 ہے۔ ان کی واپسی سے اوپننگ جوڑی میں بھی تبدیلی متوقع ہے۔

پاکستان دوسرے اسپنر ساجد خان کو بھی شامل کرنے پر غور کرسکتا ہے، جبکہ تیز گیند باز عبید شاہ کو بھی موقع ملنے کا امکان ہے۔ تاہم اصل ضرورت محض کھلاڑیوں کی تبدیلی نہیں بلکہ مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری ہے۔

پاکستان