ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ اومان کے ساتھ عارضی ٹرانزٹ معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور اس کی مکمل بحالی کے لیے امریکا کو مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنی یقین دہانیوں پر واپس آنا ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق گزشتہ روز(25 اگست) آبنائے ہرمز سے 5 کمرشل جہاز گزرے، جو ایک روز قبل کے مقابلے میں معمولی طور پر زیادہ تھے، تاہم سمندری آمدورفت اب بھی معمول سے کہیں کم رہی۔
شپ ٹریکنگ فرم کیپلر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 2 ٹینکر مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) لے کر آبنائے سے باہر نکلے، جبکہ ایک ٹینکر بٹومین لے کر روانہ ہوا۔ اس کے علاوہ 2 خالی پروڈکٹ ٹینکر آبنائے میں داخل ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق پیر کو صرف ایک جہاز کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کا ریکارڈ سامنے آیا تھا، جبکہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران روزانہ اوسط آمدورفت تقریباً 15 جہاز رہی ہے۔ اس اعتبار سے موجودہ ٹریفک معمول کی سطح سے خاصی کم ہے۔
کیپلر کے اعداد و شمار ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ان میں بعد میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق بعض بحری جہاز سفر کے دوران اپنے ٹرانسپونڈر بند کردیتے ہیں، جس کے باعث ان کی نقل و حرکت کی مکمل نگرانی ممکن نہیں رہتی۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی محض عارضی ٹرانزٹ انتظامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے امریکا کو مفاہمت کی یادداشت میں کیے گئے وعدوں اور ذمہ داریوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔











