پمز کے ایم سی ایچ نرسری میں 26 اگست کو پیش آنے والی آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پمز انتظامیہ نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی دوبارہ تشکیل دے دی ہے اور کمیٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کتے مطابق نئی تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عاطف انعام شامی ہوں گے، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر الطاف حسین اور پروفیسر ڈاکٹر ساجد رفیق عباسی کو کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔ ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر انیزہ جلیل کمیٹی کی سیکرٹری ہوں گی۔
پمز انتظامیہ کی جانب سے جاری باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی آتشزدگی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور اس بات کا تعین کرے گی کہ واقعے کے وقت فائر سیفٹی کے انتظامات مناسب، مؤثر اور فعال تھے یا نہیں۔
انکوائری کمیٹی ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن کے دوران کیے گئے اقدامات اور ردعمل کا بھی جائزہ لے گی۔ کمیٹی کو واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی سطح پر غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دار افراد کا تعین کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتظامیہ نے کمیٹی کو واضح اور قابلِ عمل سفارشات کے ساتھ تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ انکوائری رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے دفتر میں جمع کرائی جائے گی۔
پروفیسر ڈاکٹر قاسم محمود بٹ کی عدم دستیابی کے باعث سابقہ انکوائری کمیٹی کو دوبارہ تشکیل دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹر انیزہ جلیل سے وزیراعظم کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی جانب سے بھی جواب طلب کیا گیا تھا، تاہم انہیں نئی پمز انکوائری کمیٹی کا سیکرٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔
پمز نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد اب تحقیقات کا دائرہ صرف آگ لگنے کی وجہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ فائر سیفٹی انتظامات، ہنگامی ردعمل، ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن سمیت واقعے سے متعلق تمام اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
کمیٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کے بعد واقعے کی ذمہ داری کے تعین اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات سامنے آنے کی توقع ہے۔










