جرمنی میں رواں موسم گرما کے دوران شدید گرمی کے باعث ریکارڈ 15 ہزار 800 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ یورپ کے مختلف ممالک بھی مسلسل ہیٹ ویوز کی لپیٹ میں ہیں۔ جرمنی کے قومی صحت عامہ کے ادارے رابرٹ کوچ انسٹی ٹیوٹ (آر کے آئی) نے جمعرات کو جاری تازہ اعداد و شمار میں ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
رپورٹ کے مطابق شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ 75 سال سے زائد عمر کے افراد ہیں۔ جون کے اواخر میں ایک ہفتے کے دوران، جب جرمنی میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا تھا، تقریباً 9 ہزار 600 گرمی سے متعلق اموات ریکارڈ کی گئیں۔
رابرٹ کوچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق جولائی کے اواخر سے اگست کے وسط تک مزید تقریباً 4 ہزار افراد شدید گرمی کے باعث جان سے گئے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران گرمی سے ہونے والی اموات کے اعداد و شمار جمع کیے گئے ہیں، تاہم رواں سال کا ریکارڈ سب سے بلند ہے۔ اس سے قبل جرمنی میں شدید گرمی سے سب سے زیادہ 8 ہزار 900 اموات 2018 میں ریکارڈ کی گئی تھیں۔
شدید گرمی براہِ راست ہیٹ اسٹروک کا سبب بن سکتی ہے، تاہم زیادہ تر اموات پہلے سے موجود امراض، بالخصوص دل، پھیپھڑوں اور گردوں کی بیماریوں میں مبتلا افراد میں واقع ہوتی ہیں۔ آر کے آئی گرمی سے متعلق اموات کا تخمینہ شماریاتی طریقوں سے لگاتا ہے، جس میں ہیٹ ویو والے اور معمول کے موسم والے گرمیوں کے ہفتوں میں اموات کا تقابل کیا جاتا ہے۔
شدید گرمی اور خشک سالی نے یورپ کے بڑے حصے کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں گرمی سے ہونے والی اموات میں اضافہ، جنگلات میں آگ، فصلوں کو شدید نقصان اور بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ فرانس، برطانیہ اور اسپین بھی موسم گرما میں ہزاروں اضافی اموات کی اطلاع دے چکے ہیں۔
جرمنی میں شدید گرمی کے ساتھ کم بارش نے جنگلات اور زرعی شعبے کو بھی متاثر کیا، جبکہ کئی علاقوں میں جنگلات کی آگ کے واقعات سامنے آئے۔
حکومت پر مؤثر اقدامات نہ کرنے پر تنقید
جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی قیادت میں رواں ہفتے ہونے والے دو روزہ کابینہ اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی اور شدید گرمی سے بچاؤ کے اقدامات بھی زیر بحث آئے، تاہم حکومت نے کسی نئے اقدام کا اعلان نہیں کیا۔
مرز کے مطابق جرمنی کی 16 ریاستیں بنیادی طور پر گرمی سے تحفظ کی ذمہ دار ہیں اور انہیں آئندہ 12 برسوں کے دوران خصوصی انفراسٹرکچر اور موسمیاتی تحفظ فنڈ سے 100 ارب یورو فراہم کیے جائیں گے۔
دوسری جانب ماحولیاتی تنظیم انوائرنمنٹل ایکشن جرمنی نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ریکارڈ اموات کے باوجود گرمی سے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر نیا اقدام نہیں کیا گیا۔
تنظیم نے شہروں اور بلدیاتی اداروں کو ایسی سڑکوں اور فرشوں کو ہٹانے کے لیے قانونی تبدیلیوں اور فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے جو گرمی جذب کرتے ہیں، جبکہ بڑے پیمانے پر شجرکاری پر بھی زور دیا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث مستقبل میں موسم گرما مزید گرم ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر شہری علاقوں کو شدید گرمی کے اثرات سے محفوظ بنانا اور عوامی صحت کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔











