برازیل کی حکومت نے بچوں کو نقصان دہ آن لائن مواد سے تحفظ فراہم کرنے میں مبینہ ناکامی پر میسجنگ پلیٹ فارم ڈس کورڈ کے خلاف تقریباً 10 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
برازیل کی نیشنل ڈیٹا پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق حکومت نے ڈس کورڈ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی، تاہم پلیٹ فارم کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو خطرات کے خاتمے کے لیے ناکافی قرار دیا گیا، جس کے بعد برازیلیا کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا۔
حکومت نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈس کورڈ بچوں، نوعمروں اور خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے، جبکہ اجتماعی اخلاقی نقصانات کے ازالے کے طور پر کمپنی کو 500 ملین برازیلی ریال، یعنی تقریباً 9 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔
یہ کارروائی ایسے واقعے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں برازیل میں ایک 13 سالہ لڑکی کو لائیو اسٹریم کے دوران مبینہ طور پر خودکشی پر اکسایا گیا۔ واقعے کے بعد اے این پی ڈی نے رواں ماہ ڈس کورڈ کو برازیل میں لائیو اسٹریمز معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔
برازیلی حکام کے مطابق وسطی مغربی برازیل کے ایک چھوٹے شہر میں پیش آنے والے واقعے کے سلسلے میں پانچ نوعمر افراد اور ایک بالغ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
وزارتِ انصاف کے سائبر انٹیلی جنس یونٹ کے ایک عہدیدار کے مطابق مبینہ طور پر تقریباً 45 منٹ تک کچھ نوجوانوں نے لڑکی کو پہلے ایک جانور کو ہلاک کرنے پر اکسایا، ناکامی کے بعد اسے اپنی جان لینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ گرفتار افراد میں ایک کی عمر صرف 14 سال ہے۔











