کھٹمنڈو: نیپال اور چین کے خودمختار علاقے تبت کی سرحدی پٹی میں گلیشیئر کے انہدام کے باعث آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ نیپالی پولیس کے مطابق سیلاب اور مٹی کے تودوں سے 359 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ تبت میں 3 ہلاکتوں کی اطلاع کے بعد مجموعی تعداد کم از کم 362 ہوگئی ہے۔
اے ایف پی نے نیپالی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سیلاب کے بعد 1300 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد اور لاپتا شہریوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
ابتدائی سائنسی تحقیقات کے مطابق ممکنہ طور پر گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر دریا میں گرا، جس سے پانی کا راستہ عارضی طور پر بند ہوگیا اور ایک جھیل بن گئی۔ بعد ازاں پانی کے اچانک اخراج نے انتہائی طاقتور سیلابی ریلے کی شکل اختیار کرلی، جو اپنے راستے میں گھروں، سڑکوں اور پلوں کو بہا لے گیا۔
نئی جھیل پھٹنے کا خطرہ
نیپال کی ڈیزاسٹر اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقے میں بننے والی نئی جھیل میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے اور اس کے پھٹنے کا خدشہ موجود ہے۔ حکام نے شہریوں اور امدادی کارکنوں کو دریا کے کناروں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
شدید تباہی کے بعد نیپال کے مختلف علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ متاثرین کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس بھی ریسکیو اور شہریوں کے تحفظ کی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے۔
غیر ملکی بھی متاثر
سیلاب سے متاثرہ علاقے میں موجود 517 غیر ملکی شہریوں سے رابطہ نہیں ہو سکا، جبکہ تقریباً 1300 لاپتا افراد میں 100 سے زائد افراد وہ زائرین بھی شامل ہیں جو مقدس پہاڑ کیلاش کی یاترا پر تھے۔
کیلاش جنوب مغربی تبت میں 6400 میٹر سے زیادہ بلند ہمالیائی چوٹی ہے، جسے ہندو، بدھ، جین اور تبتی بون مذاہب میں غیر معمولی مذہبی اہمیت حاصل ہے۔
چین نے بھی متاثرہ علاقے گیرونگ میں 141 امدادی کارکن روانہ کیے ہیں تاکہ تلاش اور امدادی کارروائیوں میں مدد فراہم کی جا سکے۔
موسمیاتی تبدیلی سے خطرات بڑھنے کا خدشہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرم ہوتی ہمالیائی آب و ہوا گلیشیئرز سے متعلق ایسے خطرات میں اضافہ کر رہی ہے۔ ابتدائی شواہد کے مطابق موجودہ تباہی کا تعلق گلیشیئر کے ٹوٹنے اور دریا کے عارضی طور پر بند ہونے سے ہو سکتا ہے، تاہم سائنس دان سیٹلائٹ اور زمینی معلومات کی مدد سے واقعے کی مکمل وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تباہی کے بعد زندہ بچ جانے والے افراد کی دردناک داستانیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ متاثرہ علاقے سے نکالے گئے ایک کسٹمز اہلکار کے مطابق بعض علاقوں میں پانی، مٹی اور ملبے نے پورے قصبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور متعدد افراد نے پہاڑی ڈھلوانوں پر چڑھ کر اپنی جانیں بچائیں۔
ادھر پوپ لیو چہاردہم نے بھی نیپال میں جانی نقصان اور تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے











