اہم ترین

سی آئی اے چیف کا روس کو نیٹو ممالک پر حملے سے باز رہنے کا انتباہ:امریکی میڈیا

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے رواں ہفتے ماسکو کے غیر معمولی دورے کے دوران روس کو خبردار کیا کہ وہ نیٹو کے رکن ممالک پر کسی بھی حملے سے باز رہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور سی بی ایس نیوز کے مطابق ریٹکلف کا ماسکو دورہ روس کو نیٹو کے خلاف ممکنہ کارروائی سے روکنے کے لیے کیا گیا۔ امریکی انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق ماسکو آنے والے برسوں میں نیٹو کے عزم اور اتحاد کو جانچنے کے لیے محدود پیمانے پر حملہ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

ریٹکلف 2022 میں یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد روس کا دورہ کرنے والے اعلیٰ ترین امریکی حکام میں شامل ہیں۔ ان کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین میں روسی فوجی کارروائیوں میں شدت آئی ہے اور حالیہ مہینوں میں شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ امریکا کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

ٹرمپ نے دورے کو معمول کی کارروائی قرار دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریٹکلف کے ماسکو دورے کو ’’نیم معمول‘‘ کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی آئی اے چیف روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ریٹکلف نیٹو کے خلاف روسی کارروائی یا ایران پر امریکی اقتصادی دباؤ جیسے دیگر معاملات پر بات کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دورے سے متعلق مزید معاملات بعد میں سامنے آ سکتے ہیں۔

روسی انٹیلی جنس حکام سے رابطے

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے تصدیق کی کہ ریٹکلف نے ماسکو میں روسی خصوصی سروسز کے حکام سے ’’رابطے‘‘ کیے، تاہم ان کی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات نہیں ہوئی۔

پیسکوف کے مطابق پیوٹن کو ان مذاکرات سے آگاہ کیا گیا، تاہم انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ یوکرین جنگ بھی بات چیت کا حصہ تھی یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس اداروں کے ذریعے رابطے بذاتِ خود ایک مثبت پیش رفت ہیں۔

ریٹکلف کے دورے کے دوران ایران کے معاملے پر بھی گفتگو کی گئی۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس چیف نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت بحال نہ ہونے کی صورت میں مزید پابندیوں کے امکان سے بھی روس کو آگاہ کیا۔

اس سے قبل کسی سی آئی اے ڈائریکٹر کا ماسکو کا آخری دورہ نومبر 2021 میں ہوا تھا، جب موجودہ امریکی سفیر اور اس وقت کے سی آئی اے چیف ولیم برنز نے روس کو یوکرین پر فوجی حملے سے خبردار کیا تھا۔ چند ہفتوں بعد روس نے یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی تھی، جو بعد میں دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کا بدترین تنازع بن گئی۔

سی آئی اے اس سے قبل روس اور امریکا کے درمیان قیدیوں کے تبادلوں میں بھی کردار ادا کر چکی ہے، جن میں 2024 کے وسط میں ہونے والا بڑا تبادلہ بھی شامل ہے۔

یوکرین جنگ میں اب تک لاکھوں افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ روس یوکرین کے مشرقی علاقوں اور کریمیا سے متعلق اپنے سخت مطالبات سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔

پاکستان