متحدہ عرب امارات کے بیٹر آصف خان پر ممنوعہ دوا کے استعمال پر 15 ماہ کی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے مطابق آصف خان نے ممنوعہ مادے کے استعمال سے متعلق اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی تسلیم کرلی ہے۔
آئی سی سی کے مطابق 36 سالہ آصف خان کا ستمبر 2025 میں مقابلے سے باہر ہونے والے ڈوپ ٹیسٹ کا نمونہ مثبت آیا تھا، جس میں میسٹرولون کا میٹابولائٹ پایا گیا۔
آصف خان نے آئی سی سی اینٹی ڈوپنگ کوڈ کے آرٹیکل 2.1 کی خلاف ورزی تسلیم کی اور ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) اور آئی سی سی کے ساتھ طے پانے والے کیس ریزولوشن معاہدے کے تحت 15 ماہ کی پابندی قبول کرلی۔ معاہدے کے باعث کھلاڑی کو پابندی کے خلاف اپیل کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
پابندی کی مدت
آئی سی سی کے مطابق پابندی 8 ستمبر 2025 سے نافذ تصور ہوگی اور 7 دسمبر 2026 تک جاری رہے گی۔
آصف خان 8 اکتوبر 2026 سے ٹیم کے ساتھ ٹریننگ یا آئی سی سی کے کسی رکن ادارے کے کلب کی سہولیات استعمال کرسکیں گے، تاہم مسابقتی کرکٹ میں واپسی کے لیے انہیں 8 دسمبر 2026 تک انتظار کرنا ہوگا۔
آئی سی سی نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ 8 ستمبر 2025 سے 29 دسمبر 2025 کو عائد ہونے والی عارضی پابندی تک آصف خان کے انفرادی نتائج منسوخ تصور ہوں گے۔ ان نتائج کے ساتھ حاصل ہونے والے میڈلز، پوائنٹس، انعامی رقم اور دیگر اعزازات بھی واپس لیے جائیں گے۔
آصف خان سابق پاکستانی انڈر 19 کرکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے مارچ 2022 میں عمان کے خلاف آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ لیگ 2 کے ون ڈے میچ سے متحدہ عرب امارات کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز کیا تھا۔
ستمبر 2025 تک آصف خان نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے 38 ون ڈے اور 56 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے۔
ان کے کیریئر کے آخری تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز 2025 کے ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ میں بھارت، اومان اور پاکستان کے خلاف تھے۔ یہ تینوں میچز 8 ستمبر 2025 کے بعد کھیلے گئے تھے، اس لیے آئی سی سی کے فیصلے کے تحت ان کے ریکارڈ سے بھی یہ میچز ختم کردیئے جائیں گے۔











