اہم ترین

امریکا ایران جنگ کو 6 ماہ مکمل: ایران کا سفارت کاری کا دروازہ کھلا رکھنے کا اعلان

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کو چھ ماہ مکمل ہوگئے، تاہم کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سفارت کاری کو دوبارہ پٹری پر لانا ناممکن نہیں، تاہم اس کے لیے امریکا کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ دباؤ کارگر ثابت نہیں ہوتا۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے اواخر میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر سمیت مختلف ممالک کی ثالثی میں کئی ماہ سے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

اپریل میں جنگ بندی ہوئی تھی، جبکہ جون میں حتمی امن معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے، تاہم مستقل امن معاہدہ اب تک طے نہیں پاسکا۔

ایران کے جوہری اور علاقائی معاملات کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز بھی مذاکرات کا اہم مرکز بن چکی ہے۔ ایران نے جنگ کے آغاز پر آبنائے ہرمز بند کردی تھی اور اب تہران کا مؤقف ہے کہ امریکی پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ختم ہونے تک آبنائے ہرمز کھولنے پر پیش رفت ممکن نہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ اعتماد سازی کرے، احترام کے ساتھ بات کرے، ایران کے حقوق تسلیم کرے اور کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرے۔

دوسری جانب ایرانی رکن پارلیمنٹ اسماعیل کوثری نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے مفاہمتی یادداشت پر عمل نہ کیا تو آبنائے ہرمز بند رہے گی اور ایران امریکی مفادات کے خلاف مزید دور تک کارروائیاں کرسکتا ہے۔

ادھر امریکا نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے اسے ’’اقتصادی جنگ‘‘ قرار دیا ہے۔ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران میں پٹرول کی فراہمی بھی دباؤ کا شکار ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کئی دہائیوں سے عالمی پابندیوں کا سامنا کرتا آیا ہے اور امریکی دباؤ کے مزید اثرات محدود ہوسکتے ہیں۔

چین بھی ایران کے ساتھ تجارتی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے اور ایرانی تیل کی خریداری کر رہا ہے۔ واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے چینی بینک بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔

یوں جنگ کے چھ ماہ بعد ایک طرف امریکا کا معاشی دباؤ جاری ہے، تو دوسری جانب ایران نے سفارت کاری کی گنجائش برقرار رکھتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ بات چیت تب ہی ممکن ہے جب واشنگٹن دباؤ کی پالیسی ترک کرے۔

پاکستان