اہم ترین

روس کے یوکرین میں ڈرون حملے سے 27 افراد ہلاک: سیکڑوں کا انخلا

یوکرین کے دارالحکومت کیف کے مضافاتی علاقے میں روسی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک گودام میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور یکے بعد دیگرے دھماکوں سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک جبکہ 42 زخمی ہوگئے۔

علاقائی گورنر تیمور تکاچینکو نے بتایا کہ حملہ جمعہ کی شب تقریباً 8 بجے کیف کے قریب بوچا ضلع کے گاؤں میلا میں ہوا۔ ڈرون حملے کے بعد گودام میں لگنے والی آگ نے شدت اختیار کی اور دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس کے باعث قریبی آبادی کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔

حکام کے مطابق حملے کے بعد 380 سے زائد افراد کو علاقے سے نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا جبکہ 200 سے زیادہ افراد کو پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کیا جاچکا تھا۔ متاثرین میں بچے بھی شامل ہیں۔

یوکرین میں گزشتہ کئی ماہ سے روس اور یوکرین کے درمیان طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون اور میزائل حملوں میں شدت آئی ہے۔ ان حملوں میں لاجسٹکس مراکز، گوداموں، تیل کی تنصیبات اور بندرگاہی انفرااسٹرکچر سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

واقعے کے بعد یوکرینی پراسیکیوٹرز نے حملے کے علاوہ گودام میں دھماکا خیز اشیا اور مواد ذخیرہ کرنے کے انتظامات کی بھی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا متعلقہ ادارے کے پاس ایسی اشیا ذخیرہ کرنے کے لیے ضروری اجازت نامے اور قانونی منظوری موجود تھی یا نہیں۔

یوکرین کے وزیراعظم سرگئی کوریٹسکی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جولائی میں کیف کے قریب ویشنےوے میں ایک گولہ بارود کے ڈپو پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد بھی مطلوبہ احتیاط نہیں برتی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے پانچویں سال میں ایک ہی نوعیت کی غلطیوں کا بار بار دہرایا جانا مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے اور ذمہ دار افراد کو، بلااستثنا، سخت سزا ملنی چاہیے۔

حکام کے مطابق امدادی کارکن تباہ شدہ گودام میں لگی آگ پر قابو پانے اور ملبے میں ممکنہ طور پر موجود دیگر متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں۔ حملے کے نتیجے میں علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان