اہم ترین

کائنات کے راز جاننے کے لئے رومن ٹیلی اسکوپ اپنے سفر کو تیار

امریکی خلائی ادارے ناسا کا جدید نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ خلا میں اپنے سفر کو روانہ ہونےکے لئے تیار ہے ، جہاں یہ کئی برسوں پر محیط ایک اہم سائنسی مشن کے تحت کائنات کا ایک وسیع اور تفصیلی نقشہ تیار کرے گا۔ ٹیلی اسکوپ کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس ایکس کے فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے لانچ کیا جائے گا۔

لانچ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 26 منٹ پر متوقع ہے۔ 12 میٹر سے زیادہ بلند یہ جدید رصدگاہ ایک ایسے مشن کا آغاز کرے گی جس پر ایک دہائی سے زائد عرصے تک کام کیا گیا اور جس کی لاگت 4 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کا نام امریکی ماہرِ فلکیات نینسی گریس رومن کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہیں ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی ترقی میں اہم کردار کے باعث ’’مدر آف ہبل‘‘ کہا جاتا ہے۔

ہبل سے 100 گنا وسیع منظر

رومن کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا وسیع فیلڈ آف ویو ہے، جو ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کے مقابلے میں 100 گنا سے بھی زیادہ وسیع ہوگا۔ یہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے مقابلے میں بھی کہیں زیادہ وسیع علاقے کا مشاہدہ کر سکے گا۔

لانچ کے بعد رومن کو زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور ایک مقام تک پہنچنے میں تقریباً 100 دن لگیں گے۔ وہاں سے یہ خلا کے وسیع حصوں کا سروے کرے گا اور اربوں سال پرانی روشنی کا مشاہدہ کرکے کائنات کے ماضی میں جھانکنے میں مدد دے گا۔

ہزاروں نئے سیارے، لاکھوں فلکیاتی مشاہدات

رومن مشن کا ایک بڑا مقصد ایسے ہزاروں ایکسوپلینیٹس دریافت کرنا ہے جو ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیلی اسکوپ دسیوں ہزار سپرنووا کا بھی مشاہدہ کرے گا، جو ستاروں کے انتہائی طاقتور دھماکوں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق ان مشاہدات سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ہماری کہکشاں میں زمین جیسے سیاروں اور نظام ہائے شمسی کا وجود کتنا عام ہے۔

ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کی تلاش

رومن مشن کا سب سے اہم سائنسی ہدف کائنات کے دو بڑے معموں، ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی، کو سمجھنا ہے۔ سائنس دانوں کے موجودہ اندازوں کے مطابق یہ دونوں مل کر کائنات کے تقریباً 95 فیصد حصے پر مشتمل ہیں، تاہم ان کی اصل حقیقت اب بھی واضح نہیں۔

ڈارک میٹر کو ایک ایسی پوشیدہ مادّی قوت سمجھا جاتا ہے جو کششِ ثقل کے ذریعے کہکشاؤں اور کائناتی ڈھانچے کو جوڑے رکھنے میں کردار ادا کرتی ہے، جبکہ ڈارک انرجی کو کائنات کے مسلسل پھیلاؤ میں تیزی کا ممکنہ سبب سمجھا جاتا ہے۔

رومن کی انفراریڈ صلاحیتیں سائنس دانوں کو انتہائی دور موجود اجرامِ فلکی سے آنے والی روشنی کا مشاہدہ کرنے دیں گی، جس سے کائنات کی تشکیل اور ارتقا کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔

کیا موجودہ کائناتی نظریہ غلط ثابت ہوسکتا ہے؟

سائنس دانوں کو امید ہے کہ رومن کے مشاہدات کائنات کے بارے میں موجودہ سائنسی ماڈلز کی سخت جانچ کریں گے۔ حالیہ مشاہدات نے بعض ماہرین کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کیا ہے کہ آیا کائنات کی ابتدائی توسیع اور اس کے ارتقا کے بارے میں موجودہ نظریات مکمل طور پر درست ہیں۔

رومن کے اعداد و شمار اس بات کا زیادہ واضح جواب دینے میں مدد دے سکتے ہیں کہ موجودہ کائناتی ماڈل درست ہے یا اس میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

یہ مشن چلی میں موجود روبیِن آبزرویٹری اور یورپی خلائی ادارے یوروپئین اسپیس ایجنسی کے یوکلیڈ مشن سمیت دیگر خلائی اور زمینی رصدگاہوں کے مشاہدات کی تکمیل کرے گا۔

رومن سے حاصل ہونے والا تمام سائنسی ڈیٹا سائنس دانوں اور عام لوگوں کے لیے دستیاب ہوگا، تاہم ڈیٹا کی مقدار غیر معمولی طور پر زیادہ ہوگی۔ ٹیلی اسکوپ روزانہ تقریباً 1.3 ٹیرا بائٹ ڈیٹا پیدا کرے گا، جس کے باعث اس کے مکمل ڈیٹا کو عام کمپیوٹر پر ڈاؤن لوڈ کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہوگا۔

سائنس دانوں کو امید ہے کہ رومن کی سب سے بڑی دریافت وہ ہوگی جس کی انہیں پہلے سے توقع ہی نہ ہو۔ ایسی کوئی حیران کن دریافت مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے کائنات کے مزید گہرے راز تلاش کرنے کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔

پاکستان