نیپال اور چین کے خودمختار حصے تبت کے سرحدی علاقے میں تباہ کن سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کے بعد لاپتا افراد کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرگئی، جبکہ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
نیپال کے مطابق ملک میں 2,498 افراد تاحال لاپتا ہیں، جن میں سیکڑوں غیر ملکی بھی شامل ہیں، جبکہ سیلاب اور دیگر حادثات کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 734 تک پہنچ گئی ہے۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت میں مزید 546 افراد لاپتا اور 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لاپتا افراد میں 261 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ تبت کے متعدد متاثرہ علاقوں تک غیر ملکی صحافیوں کی رسائی نہ ہونے کے باعث وہاں ہونے والی تباہی کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق ممکن نہیں۔
ہائیڈرو پاور سرنگوں میں 100 سے زائد افراد پھنس گئے
ریسکیو حکام کے مطابق نیپال میں ہائیڈرو پاور منصوبوں کی متعدد سرنگوں میں 100 سے زائد کارکنوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ نیپالی فوج نے تریشولی تھری اے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کی ایک سرنگ میں پائپ ڈال کر اندر ہوا پہنچانا شروع کردی، تاہم رات بھر ہونے والی بارش اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیدا ہوئیں۔
ان سرنگوں میں پھنسے افراد ان 933 لاپتا کارکنوں میں شامل ہیں جو ان ہائیڈرو پاور منصوبوں پر کام کر رہے تھے جہاں برف، چٹانوں اور ملبے پر مشتمل سیلابی ریلہ بہہ نکلا۔
بھارت نے ایسے مشکل ریسکیو آپریشنز کے تجربے کی بنیاد پر 11 رکنی خصوصی ٹیم نیپال بھیجی ہے، جبکہ چین نے بھی سرنگوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے 9 رکنی ٹیم روانہ کی ہے۔
نئی جھیل بننے سے امدادی کارروائیوں کو خطرہ
متاثرہ علاقے میں ایک نئی قدرتی جھیل بننے سے بھی امدادی کارروائیوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ ہفتے کی شام لینڈ سلائیڈنگ کے بعد تبت کی سرحد کے قریب نئی بیریئر لیک بننا شروع ہوگئی۔
حکام نے ممکنہ خطرے کے پیش نظر گیروںگ سرحدی بندرگاہ کے قریب موجود ریسکیو اہلکاروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا، جبکہ چینی وزارتِ ایمرجنسی مینجمنٹ نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کو طلب کرلیا ہے۔
نیپال میں تعمیرِ نو پر اربوں ڈالر خرچ ہونے کا خدشہ
نیپال کے وزیر خارجہ ششیر کھنال نے کہا ہے کہ تباہی کے بعد ملک کی تعمیرِ نو پر اربوں ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں۔ حکومت نقصانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد تعمیرِ نو کا منصوبہ تیار کرے گی اور عالمی برادری سے مالی مدد کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
ریسکیو مراکز پر لاپتا افراد کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی تلاش میں موجود ہیں۔ بدیر کے ایک فوجی اڈے پر متاثرہ خاندانوں کی بڑی تعداد امدادی کارروائیوں سے متعلق فہرستوں میں اپنے عزیزوں کے نام تلاش کرتی رہی۔
آسٹریلوی خاندان کی بیٹی بحفاظت مل گئی
سیلاب میں لاپتا ہونے والی 24 سالہ آسٹریلوی خاتون کارا سیورینو جمعے کو بحفاظت مل گئی۔ اس کے والدین نے بیٹی کی خیریت کی اطلاع ملنے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔
تاہم 42 آسٹریلوی شہری اب بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں، جن میں کئی افراد مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے نیپال گئے ہوئے تھے۔
برفانی تودہ اور موسمیاتی تبدیلی کا خدشہ
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بدھ کو چین اور نیپال کی بلند پہاڑی سرحد کے قریب پیش آنے والی تباہی کی وجہ گلیشیئر کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والا ملبے کا شدید سیلاب تھا۔
چینی خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ نیپال میں لیرونگ چوٹی کے جنوبی ڈھلوان پر موجود گلیشیئر میں شگاف پڑنے سے برف اور چٹانوں کا بڑا تودہ نیچے آیا، جس نے سیلابی ریلے کو جنم دیا۔
اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہ نے واقعے کو ہمالیائی پہاڑی ماحول کی بڑھتی ہوئی نزاکت کی خطرناک یاد دہانی قرار دیا۔ نیپال کے وزیر خارجہ نے بھی ہمالیہ میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرے پر تشویش ظاہر کی ہے۔
عالمی امداد کا اعلان
ریڈ کراس کے مطابق نیپال میں اس قدرتی آفت سے 93 ہزار افراد تک متاثر ہوسکتے ہیں۔ نیپال نے عالمی برادری سے مالی امداد کے ساتھ ساتھ بھاری سامان اٹھانے والے ڈرونز، ڈی این اے ٹیسٹنگ کٹس اور لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے فریزر یونٹس سمیت خصوصی ریسکیو سامان کی درخواست کی ہے۔
امریکا اور کینیڈا نے ہر ایک کی جانب سے تقریباً 3.6 ملین ڈالر، برطانیہ نے 6.8 ملین ڈالر جبکہ اقوام متحدہ نے 2.5 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے۔
یورپی یونین نے 2.3 ملین ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جبکہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے 10 لاکھ ڈالر سے زائد مختص کیے اور مزید 31 ملین ڈالر کے لیے ہنگامی اپیل شروع کی ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے بھی بیجنگ کی جانب سے مدد کی پیشکش کی ہے، جبکہ ملائیشیا خصوصی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم نیپال بھیجنے کے ساتھ بحالی اور متاثرین کی مدد کے لیے 10 لاکھ ڈالر بھی فراہم کرے گا۔











