اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ دنیا میں پانچ سال سے کم عمر ہر 4 میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔
اقوام متحدہ نے 5 سال تک کے بچوں کے لئے یومیہ پانچ غذائیں تجویز کررکھی ہیں۔ جن میں ماں کا دودھ، اناج، جڑیں، دالیں، گری دار میوے اور بیج، ڈیری مصنوعات ، گوشت، پولٹری، مچھلی، انڈے، وٹامن اے سے بھرپور پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔
یونیسیف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے 100 سے زائد ترقی پزیر اور پسماندہ ملکوں کے 44 کروڑ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں ۔ جن میں سے 18 کروڑ بچے شدید غذائی کمی کا شکار ہیں۔
دنیا کے 20 ممالک کے بچے سب سے زیادہ غزائی قلت کا شکار ہیں۔ صومالیہ میں 63 فیصد، گنی 54 فیصد، گنی بساؤ 53 فیصد اور افغانستان میں 49 فیصد بچے غذا کی کمی اور نامناسب خوراک کا شکار ہیں۔
مرکزی مصنف ہیریئٹ ٹورلیس کے مطابق اس قدر زیادہ بچوں میں غذائی قلت ظاہر کرتی ہے کہ بچوں کی اکثریت یومیہ صرف دو یا اس سے کم تجویز کردہ خوراک لے پاتے ہیں۔ ایسے بچے تعلیم سمیت زندگی میں بہت کم ترقی کرپاتے ہیں۔ یہ عمل غربت کے چکر کو ایک نسل سے دوسری نسل میں بدل دیتا ہے۔صحت مند دماغ، دل اور مدافعتی نظام بیماری سے تحفظ کے لیے بہت اہم ہیں اور ان سب کا مناسب وٹامنز ، معدنیات اور پروٹین پر پر مشتمل غذا پر ہے۔











