اہم ترین

نیتن یاہو نے آسٹریلوی وزیر اعظم کو اسرائیل کا غدار کمزور سیاستدان قرار دے دیا

غزہ میں جاری قتل عام اور غذائی قلت سے بچوں کے جاں بحق ہونےکے واقعات بڑھنے کے بعد اسرائیل کا ساتھی ملک آسٹریلیا بھی اس کا ساتھ چھوڑ رہاہے۔ جس پر صیہونی وزیر اعظم اپنے آسٹریلوی ہم منصب انتھونی البانیز کو اسرائیل سے غداری کرنے والا کمزور سیاستدان قرار دے دیا ہے۔

غزہ میں ساری حدیںپار کرنے والے اسرائیل کو اب اپنی بربریت کی وجہ سےبین الاقوامی سطح پر سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کےبعد گذشتہ ہفتے آسٹریلیا نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا۔

اسکے ساتتھ ہی دو روز قبل آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک کی جانب سے ایک معروف دائیں بازو کے اسرائیلی سیاستدان کا ویزا منسوخ کردیا تھا ۔ جس کے بعد اسرائیل نے اس اعلان کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے لیے آسٹریلوی نمائندوں کی اسناد منسوخ کر دیں۔

ساتھ ہی اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے اینتھونی البانیز پر براہ راست تنقید کی۔ ان کے باضابطہ ایکس اکاؤنٹ پر ٹوئٹ میں کہا گیا کہ تاریخ البانیز کو اس کے اصل روپ میں یاد رکھے گی۔ ایک کمزور سیاستدان جنہوں نے اسرائیل سے غداری کی اور آسٹریلیا کے یہودیوں کو تنہا چھوڑ دیا۔

اس کے جواب میں آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ طاقت کا پیمانہ یہ نہیں ہے کہ آپ کتنے لوگوں کو مار یا کتنے لوگوں کو بھوکا رکھ سکتے ہیں۔طاقت کا بہتر پیمانہ وہی ہے جو وزیر اعظم انتھونی البانیز نے بتایا ہے — یعنی جب کوئی ایسا فیصلہ ہوتا ہے جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ اسرائیل کو پسند نہیں آئے گا، تو وہ سیدھے بن یامین نتن یاہو کے پاس جاتے ہیں۔

پاکستان