آرٹیفیشل انٹیلیجنس اب صرف چیٹ بوٹ یا کوڈنگ تک محدود نہیں رہا، بلکہ کھانے کی دنیا میں بھی دستک دے چکا ہے۔ دبئی میں جلد کھلنے والا ایک نیا ریستوران ووہو اسی آئیڈیا پر کام کر رہا ہے، جہاں مینو، ذائقے کے امتزاج اور پورے ڈائننگ تجربے کا ڈیزائن ایک اے آئی شیف کرے گا۔ انسان کچن میں کھانا تو بنائیں گے، لیکن شیف ایمن ان کی رہنمائی کرے گا
ایمن دراصل ایک بڑا لارج-لینگویج ماڈل ہے، جسے فوڈ سائنس، مالیکیولر کمپوزیشن اور ہزاروں ریسیپی سے تربیت دی گئی ہے۔ یہ ہر پکوان کو ٹیکسچر، اومامی، ایسڈٹی اور مٹھاس جیسے چھوٹے چھوٹے حصوں میں توڑتا ہے اور پھر نئے کمبینیشن بناتا ہے۔ بعد میں مشہور شیف ریئف عثمان اور ان کی ٹیم انہیں ٹیسٹ کرکے حتمی شکل دیتی ہیں۔
خود ایمن بھی کہتا ہے کہ انسانی شیف کا فیڈبیک مجھے ڈیٹا سے آگے کا ذائقہ سمجھاتا ہے۔
ووہوکی ویب سائٹ میں دی گئی تفصیلات بتاتی ہیں کہ اس پروجیکٹ کا مقصد ہیومن ککنگ کو بدلنا نہیں ہے، بلکہ اسے زیادہ تخلیقی اور سسٹین ایبل بنانا ہے۔ ریستوران کا دعویٰ ہے کہ ایمن ان اجزاء سے بھی ریسیپی تیار کرے گا جنہیں عام طور پر ضائع کر دیا جاتا ہے۔
ووہو کا اندرونی ڈیزائن اور ماحول بھی اتنا ہی منفرد ہوگا۔ یہاں سائبرپنک-اسٹائل ڈیزائن، ایل ای ڈی انسٹالیشن اور ڈیجیٹل آرٹ دیکھنے کو ملے گا۔











