اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے 3 روز قبل قطر کے دارالحکومت دوحا میں حماس قیادت پر حملے کو امریکا کے نائن الیون حملے کے بدلے جیسا قرار دیا ہے۔
چند روز قبل اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحا میں انتہائی سیکیورٹی والے رہائشی علاقے میں حماس قیادت پر حملہ کیا تھا۔ جس کے باعث دنیا بھر میں اسے تنقید کا سامنا ہے ۔ لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کسی بھی طرح کا افسوس ظاہر کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آ رہے۔
انہوں نے اب ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے قطر کو وارننگ دے دی ہے کہ وہ حماس کے رہنماؤں کو اپنے ملک سے نکال باہر کرے نہیں تو انجام بھگتنے اور اسرائیل کے انصاف کے لیے تیار رہے۔
انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کا موازنہ امریکا میں ہوئے 11 ستمبر کے حملے سے کرتے ہوئے یاہو نے کہا کہ ہولو کاسٹ کے بعد پہلی مرتبہ یہودیوں پر اتنا بڑا حملہ ہوا۔ ہم اسے کیسے بھول سکتے ہیں۔ اسرائیل نے دوحا میں جو ایکشن لیا ہے وہ امریکا کے نائن الیون حملے کے بدلے جیسا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ 11 ستمبر کے حملے کے فوراً بعد امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرار دادمیں کہا تھا کہ کوئی بھی دہشت گردوں کو پناہ نہ دے اور وہ جہاں بھی ہوں گے، وہیں پر مارا جائے گا۔ہم بھی اسی پالیسی پر کام کر رہے ہیں۔ حماس کے جنگجو جہاں بھی ہوں گے، ہم انہیں مار گرائیں گے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ قطر کی طرف سے حماس کے دہشت گردوں کو پناہ دی جا رہی ہے۔ ان کے لوگوں کو رہائش اور مالی مدد دی جا رہی ہے۔ اسی رقم سے وہ اسرائیل کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔











