آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کار مینوفیکچررز اور وفاقی وزارت صنعت و تجارت گاڑیوں کی برآمدات اور مقامی صارفین کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے آٹو انڈسٹری ڈیویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2021-26 سےمتعلق آڈٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں تیار گاڑیوں اور پرزہ جات کا 10 فیصد برآمد کرنے کا حاصل نہ ہو سکا ۔
کار مینوفیکچررز صارفین سے مکمل قیمت وصول کرنے کے باوجود بروقت گاڑیاں ڈلیور نہ کر سکے ۔ اس کے علاوہ کار مینوفیکچررز گاڑیوں کی بکنگ، ڈلیوری اور رقوم کی واپسی کا ڈیٹا دینے میں بھی ناکام رہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ صارفین سے اون منی کی وصولی، گاڑیوں کی لیٹ ڈلیوری انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ کار اسیمبلرز کی جانب سے 20 فیصد ڈاون پیمنٹ پر کار بکنگ کی پالیسی کی بھی خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔
آڈیٹرجنرل پاکستان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کار مینو فیکچرز گاڑیاں ایکسپورٹ کرنے میں ناکام رہے۔ انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ گاڑیوں کی ایکسپورٹس کا ڈیٹا اکھٹا نہ کر سکا ۔گاڑیوں اور پرزہ جات کی برآمدات میں ناکام رہنے والی کمپنیوں کے معائدوں پر نظرثانی نہیں کی گئی۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں غیر قانونی چینلز کے ذریعے گاڑیوں کے پرزہ جات کی امپورٹ اور ای ڈی بی کی منظوری کے بغیر سی کے ڈی کٹس کی درآمد کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔
آڈیٹر جنرل نے پالیسی پر عملدرآمد میں ناکامی وزارت صنعت و پیداوار کی سنگین کوتاہی قرار دیتے ہوئے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی تجویز دیدی











