اہم ترین

اےآئی سے کورونا جیسی وبا پھیلائی جاسکتی ہے: سی ای او چیٹ جی پی ٹی کی وارننگ

چیٹ جی پی ٹی کے سی او او سیم آلٹم مین نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں اےآئی چیٹ بوٹس کی مدد سے کورونا وائرس جیسی وبا پھیلائی جاسکتی ہے۔

اے آئی چیٹ بوٹچیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی کے سی ای او آلٹمین نے دنیا کو ایک نئی تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیٹ جی پی ٹی جیسے اےآئی ماڈیول بائیولوجی میں بہت اچھے بنتے جا رہے ہیں۔ اس کا غلط استعمال کسی وبا کو تیار کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

ایک پروگرام کے دوران سیم آلٹمین سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ایسی کون سی کمی ہے، جس کے بارے میں وہ فکر مند ہیں؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سے کوویڈ جیسی وبا کو تیار کیا جا سکتا ہے۔ مجھے اس کی فکر ہے۔ چونکہ اس بارے میں تشویش ظاہر کی جا رہی ہے تو اس پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ اس خطرے کو کیسے ٹالا جائے۔

آلٹمین سے پہلے کئی ماہرین بھی ایسی ہی تنبیہ کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹولز سے جینیاتی انجینئرنگ کے عمل کی نقل کر کے یا نئی پروٹین ساخت بنا کر حیاتیاتی تحقیق کو تیز کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نئی دوائیں بنانے اور طبی میدان میں نئے اختراعات کی راہ کھلے گی، لیکن اگر یہی چیز غلط ہاتھوں میں پڑ جاتی ہے تو اس کا خوفناک غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے۔

حال ہی میں ڈیپ مائنڈ کے سی ای او نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ اے آئی کے آنے سے نئی دوائیں بنانے کا کام تیز ہوگا۔ جو تحقیق برسوں میں مکمل ہوتی تھی، وہ اے آئی کی مدد سے چند ہی مہینوں میں مکمل ہو جائیں گی۔

پاکستان