نیپال میں جین زی بغاوت کے بعد سپریم کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس سوشیلا کارکی نے عبوری حکومت کے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھالیا۔
الجزیرہ کے مطابق سوشیلا کارکی کو صدر رام چندر پاوڈل، آرمی چیف اشوک راج سگڈیل، نیپال کے اعلیٰ فوجی حکام اور’ جین-زی‘ کے نمائندوں کے درمیان عبوری حکومت کی قیادت کے لیے منتخب کیا گیا۔
جولائی 2016 میں کارکی نیپال کی 24ویں چیف جسٹس مقرر ہوئی تھیں اور وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی اور اب تک کی واحد خاتون ہیں ۔ کارکی تقریباً 11 ماہ تک اس عہدے پر فائز رہیں تھیں۔
نیپال کی عبوری وزیراعظم نے بحیثیت چیف جسٹس بدعنوانی کے خلاف عدم برداشت کے ساتھ انصاف کی فراہمی یقینی بنانے والی غیر جانبدار خاتون جیسی ساکھ بنائی تھی۔ سشیلا کارکی کو اس وقت کے وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا کی حکومت کی طرف سے مواخذے کی تحریک کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن بعد میں اسے واپس لے لیا گیا۔
عبوری وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نوجوان مظاہرین کی پہلی پسند سشیلا کارکی نہیں بلکہ کھٹمندو کے میئر بالین شاہ تھے، لیکن انھوں نے اقتدار سنبھالنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد سشیلا کا نام سامنے آیا۔
سوشیلا کارکی نے وزیر اعظم عہدہ کا حلف تو لے ہی لیا ہے، ساتھ ہی جین-زی کے 5 اہم شرائط کو بھی قبول کیا ہے۔
مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ 6 سے 12 ماہ کے اندر عام انتخاب کرائے جائیں۔ نیپال کی پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا جائے۔ سول ملٹری حکومت قائم کی جائے ۔ پرانے سیاسی رہنماؤں اور پارٹی کی جائیدادوں کی چھان بین کے لیے ایک بااختیار عدالتی کمیشن بنایا جائے۔ مظاہرین پر ہونے والے تشدد کی آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں ۔











