کراچی کے ایک عام سے کیفے نے دنیا بھر میں شہرت یافتہ کافی کی بڑی کمپنی اسٹاربکس کے خلاف ٹریڈ مارک کی جنگ جیت کر شہرت حاصل کرلی ہے۔
ستار بخش کیفے آج کل نا صرف اپنی کافی بلکہ اپنی برانڈنگ کی وجہ سے بھی شہر کی نوجوان نسل اور سوشل میڈیا میں توجہ کا مرکز بن رہا ہے
ایک گول سبز لوگو جس میں بڑی بڑی مونچھوں والے ایک آدمی کی تصویر ہے، جسے بہت سے لوگوں نے اسٹاربکس کے مشہور سمندری مخلوق کے نشان کا مدمقابل بنادیا ہے۔
ستار بخش کیفے کے نام اور ڈیزائن نے آن لائن بحث و مباحثہ کو جنم دیا، تجسس اور تنازع کی وجہ سے بالآخر اسٹاربکس کو پاکستان میں اپنا کوئی آؤٹ لیٹ نہ ہونے کے باوجود عدالتی جنگ کرنی پڑی اور منہ کی کھائی۔
عدالت کے روبرو اسٹاربکس نے دعویٰ کیا کہ ستار بکش نے کاپی رائٹ کے قواعد کی خلاف ورزی کی، لیکن مقامی کیفے نے جواب دیا کہ گہرا طنز، ثقافتی سیاق و سباق، اور اس کا منفرد مینو اسے ممتاز بناتا ہے۔
پاکستانی ٹریڈ مارک قانون کے تحت معروف برانڈز سے ملتا جلتا ایسا نام یا لوگو جو صارفین کو گمراہ یا ان کی شناخت کو کمزور کر سکے۔
فریقین کا موقف سننے کے بعد عدالت نے ستار بخش کے حق میں فیصلہ سنایا، جس سے اسے کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ملی۔ یہ فیصلہ مقامی تخلیقیت کی ایک نایاب فتح کے طور پر دیکھا گیا، جو ایک عالمی برانڈ کے خلاف تھی۔
ستار بخش کو 2013 میں رضوان احمد اور عدنان یوسف نامی دو افراد نے شروع کیا۔ آغاز سے ہی اس کی برانڈنگ نے اسٹار بکس سے بصری اور صوتی مشابہت کی وجہ سے توجہ حاصل کی۔ تاہم کیفے کے مالکان کا اصرار ہے کہ ان کا برانڈ کسی کی نقل نہیں بلکہ ثقافتی جڑوں کے ساتھ منسلک کرکے طنز کے طور پر بنایا گیا تھا۔
رضوان اور عدنان کا کہنا ہے کہ کہ ‘ستار بخش’ پاکستان میں ایک ثقافتی طور پر معنی خیز نام ہے، جو صدیوں کی تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔ اپنی شناخت کو واضح کرنے کے لیے انہوں نے لوگو کے عناصر میں مونچھوں والا کردار، لکھاوٹ کا انداز، اور رنگوں کا انتخاب جیسے فرق کی نشاندہی بھی کی۔ تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ان کا کیفے اسٹاربکس سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔
برانڈنگ سے قطع نظر ستار بخش نے کھانے اور مشروبات کے منفرد امتزاج کے ساتھ اپنی شناخت بنانے پر توجہ دی۔ اس کا مینو مقامی اور بین الاقوامی ذائقوں کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے، جس میں برگر، پیزا، اور یہاں تک کہ شیشہ بھی شامل ہے۔
ستار بخش کی کچھ ڈشز تو بہت دلچسپ نام کی حامل ہیں جیسے ‘بےشرم برگر’، جو بن کے بغیر پیش کیا جاتا ہے، اور ‘ایل او سی پیزا’، جو آدھا سبزی اور چکن والا ہوتا ہے اور بھارت-پاکستان سرحد کا مذاق اڑاتا ہے۔











