اہم ترین

کینیڈا میں عوامی احتجاج کے پیش نظر شتر مرغ کے شکار پر پابندی

کینیڈا کی سپریم کورٹ نے ایک فارم میں فلو پھیلنے پر تقریباً 400 شتر مرغوں کو تلف کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

جرمن نیوز ویب سائیٹ ڈی ڈبلیو کے مطابق حالیہ چند برسوں کے دوران امریکا میں برڈ فلو کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاکھوں مرغیاں، ٹرکی اور دیگر پرندے مارے جا چکے ہیں۔

گزشتہ برس کے اواخر میں کینیڈا کے علاقے برٹش کولمبیا کے ایک فارم میں فلو پھیلنے پر متعلقہ حکام نے شترمرغوں کے مارنے کا حکم دیا تھا۔ جس کے خلاف کیس دائر کیا گیا، تاہم ماتحت عدالتوں کے فیصلے حکام کے حق میں آتے رہے۔اور معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔

فارم مالکان کا کہنا ہے کہ وہ شتر مرغ کے اینٹی باڈیز کا مطالعہ کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ پرندوں کو مارنا “ناقابل تلافی نقصان” کا باعث بنے گا ۔ اس سے منفرد جینیات اور تحقیق پر مبنی خصوصی کاروبار تباہ ہوجائے گا ۔

متعلقہ فوڈ انسپکشن ایجنسی حکام کا موقف ہے کہ اسٹیمپ آؤٹ پالیسی جانوروں کی بیماریوں پر قابو پانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اسی دوران حکام شتر مرغوں کو ٹھکانے لگانے کے فارم پر پہنچے تو فارم مالک اور علاقہ مکیوں نے احتجاج شروع کردیا۔ اسی دوران سپریم کورٹ نے شترمرغوں کو تلف کرنے کے فیصلے کو وقتی طور پر روک دیا۔

کینیڈین سپریم کورٹ نے مقامی فوڈ انسپیکشن ایجنسی کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے تین اکتوبر تک کا وقت دیا ہے۔

پاکستان