اہم ترین

اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا گھیر کر امدادی رضاکار یرغمال بنالئے

اسرائیل نے غزہ کے لئے امداد لے جانے والی بحری جہازں کے قافلے گلوبل صمود فلوٹیلا کو گھیر کر اس میں سوار تمام امدادی کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

الجزیرہ کےمطابق 40 سے زیادہ کشتیوں پر مشتمل گلوبل صمود فلوٹیلا غزہ کے لیے ادویات اور خوراک لے کر جا رہا تھا۔ بحری قافلے میں یورپ اور ایشیا کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 500 اراکین پارلیمنٹ، وکلاء اور سماجی کارکنان سوار تھے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے ۔جس میں سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو ایک کشتی میں بیٹھے جا سکتا ہے جنہیں فوجیوں نے انہیں اپنے حصار میں لیا ہوا ہے۔

صیہونی ریاست وزارت خارجہ نے ایکس پر اپنی ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ صمود فلوٹیلا میں شامل متعدد کشتیوں کو بحفاطت روکا گیا ہے اور انہیں اسرائیلی بندرگاہ پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

صمود فلوٹیلا کےکارکنوں کو یرغمال بنانے کےخلاف کئی ملکوں میں عوام سڑکوں پر آگئے۔ میکسیکو سٹی، بگوٹا، بیونس آئرس اور میڈرڈ میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرےہوئےہیںاورپولیس کا طاقت کا استعمال کرناپڑاہے۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے غیر مسلح شہریوں کو یرغمال بنانے اور امدادی سامان کی ضبطگی کو دھونس اور جبر قرار دے دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بحری قافلہ یکجہتی، ہمدردی اور محصورین کے لیے امداد کی امید کی علامت تھا۔ اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کے لئے ملائیشیا تمام جائز اور قانونی ذرائع استعمال کرے گا

گزشتہ رات عالمی سمود فلوٹیلا کے ترجمان سیف ابوکشک نے انسٹاگرام پر جاری اپنے بیان میں تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی افواج نے سمندر میں 13 کشتیوں کو روک لیا ہے۔ ان کشتیوں پر 37 ممالک کے 201 سے زیادہ لوگ موجود تھے۔

ابو کشک کے مطابق گرفتار کئے گئے افراد میں سے 30 شرکاء اسپین سے، 22 اٹلی سے، 21 ترکی سے اور 12 ملائیشیا سے تھے۔ گرفتاریوں کے باوجود جہاز بحیرہ روم کے ذریعے غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس تقریباً 30 جہاز ہیں جو ابھی بھی قابض افواج کے بحری جہازوں کی پہنچ سے دور رہتے ہوئے غزہ کے ساحلوں تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جہازوں میںسوار تمام افراد عزم پختہ اور حوصلے جوان ہیں۔

پاکستان