اسرائیلی فوج نے غزہ امداد لے جانے والے بین الاقوامی بحری قافلہ گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کرکے اس میں سوار تمام افراد کو یرغمال بنالیا ہے۔ جن میں سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔ حالیہ صیہونی جبر کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج شروع ہوگیا ہے۔
چالیس سے زیادہ سویلین کشتیوں پر مشتمل گلوبل صمود فلوٹیلا غزہ کے لیے ادویات اور خوراک لے کر جا رہا تھا جس میں تقریباً 500 اراکین پارلیمنٹ، وکلاء اور کارکنان سوار تھے۔

اسرائیلی حملے کے ردعمل میں اٹلی، اسپین، برازیل، کولمبیا، ارجنٹینا سمیت دیگر ممالک میں بھی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
عوامی سطح کے ساتھ ساتھ کئی حکومتوں نے بھی وحشیانہ صیہونی عمل کی شدید مذمت کی ہے۔
آئرلینڈ کے وزیر خارجہ سائمن ہیرس نے ایکس پر لکھا کہیہ ہولناک انسانی تباہی کو دنیا کے سامنے لانے والا پرامن مشن تھا۔لیکن موصول ہونے والی رپورٹس بہت تشویشناک ہیں۔
اسپین نے اسرائیل سے کارکنوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔
ترکیہ کی وزارت خارجہ نے فلوٹیلا پر اسرائیلی ’حملے‘ کو ’دہشت گردی کی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیاہے کہ ترک اور دیگر افراد کی رہائی کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔











