اہم ترین

خبردار ! رات کے اوقات میں کام کرنے والوں کو گردے کی پتھری کا خطرہ زیادہ: تحقیق

ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ رات کی شفٹ میں کام کرتے ہیں ان میں گردے میں پتھری ہونے کا خطرہ معمول سے زیادہ ہوتا ہے۔

گردے کی پتھری بیماری بنتی جا رہی ہے۔ یہ بیماری لوگوں کی صحت کو بری طرح متاثر کرتی ہے اور سنگین حالات جیسے دل کی بیماری، گردے کی دائمی بیماری اور گردے کی خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔

چین کی ’سن یات سین یونیورسٹی‘ کے شعبہ ایپیڈیمولوجی کے سربراہ اور محقق ین یانگ کی سربراہی میں کی گئی تحقیق میو کلینک پروسیڈنگز نامی طبی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

اس تحقیق کے لیے ین یانگ اور ان کی ٹیم نے تقریباً 14 سال تک 2 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ لوگوں کے معمولات زندگی اور طبی ڈیٹا کا جائزہ لیا۔

روزگار کے اوقات کار کا موازنہ کرتے ہوئے ٹیم نے دیکھا کہ کن افراد میں گردے کی پتھری کے زیادہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ع

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ قد اور وزن کا تناسب یعنی باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی)، پانی کی کم مقدار اور طرز زندگی کے دیگر عوامل گردے کی پتھری کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو رات کی شفٹوں میں کام کرتے ہیں وہ مناسب نیند، کھانے پینے اور دیگر عادات کو برقرار رکھنے سے قاصر ہوتے ہیں، جو ان کے جسم کی ’سرکیڈین ریدم‘ کو متاثر کرتے ہیں۔

یہ ریدم ہمارے جسم میں ایک قدرتی عمل ہے جو اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ہم کب سوتے ہیں، کب جاگتے ہیں اور کب کچھ ہارمونز پیدا ہوتے ہیں۔

ین یانگ نے کہا کہ عالمی سطح پر، گردے کی پتھری کے مسائل ایک سے 13 فیصد آبادی کو مختلف مقامات پر متاثر کرتے ہیں۔ لیکن نائٹ شفٹ میں کام کرنے والوں میں گردے میں پتھری ہونے کا خطرہ 15 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ طرز زندگی کی متعدد عادات، جیسے تمباکو نوشی، نیند کی کمی، پانی کی ناکافی مقدار اور زیادہ وزن بھی اس خطرے میں حصہ ڈالتے ہیں

پاکستان