افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اپنے سات روزہ دورے کے سلسلے میں جمعرات کو دہلی پہنچے۔ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا ہندوستان کا دورہ ہے۔ تاہم، ان کے دورے کا سب سے زیادہ زیرِ بحث پہلو ان کے ایک سرکاری پروگرام کے دوران سامنے آیا، جہاں خواتین صحافیوں کو شرکت سے روک دیا گیا۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے جمعہ کو ملاقات کے بعد امیر خان متقی نے ایک پریس کانفرنس کی۔ جس میں خواتین صحافیوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ پابندی افغانستان میں طالبان حکومت کے خواتین کے حقوق سے متعلق سخت رویے کی عکاسی کرتی ہے۔
بھارت میں صحافتی تنظیموں اور سوشل میڈیا صارفین نے اسعمل پر شدید غم و غصہ اور احتجاج کا اظہار کیا۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا اور اسے براہِ راست صحافتی آزادی پر قدغن قرار دیا۔
صحافتی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک جمہوری ملک میں ہونے والی سرکاری سطح کی پریس کانفرنس میں ایسی صنفی پابندی کیوں لگائی گئی اور کیا میزبان ملک نے اس پر کوئی اعتراض کیا؟
اس پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کی عدم موجودگی نے ایک بار پھر افغانستان میں خواتین کی حالت زار کو نمایاں کر دیا ہے۔ اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے خواتین کے حقوق پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن میں تعلیم، ملازمت اور عوامی مقامات پر نقل و حرکت شامل ہے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان اقدامات کو صنفی امتیاز سے تعبیر کیا ہے۔











