اداکارہ دیپیکا پڈوکون نے ایک حالیہ انٹرویو میں بالی ووڈ انڈسٹری کے غیر منظم نظام، صنفی امتیاز، اور ذہنی صحت سے متعلق سنجیدہ مسائل پر کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈسٹری میں ان کے ساتھ ہونے والے سلوک نے ان کی دماغی صحت پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔
بھارتی نیوز ویب سائیٹ نیوز 18 کو دیئے گئے انٹروی میں دیپیکا پڈوکون نے کہا کہ ماں بننا ان کی زندگی کا بہترین کردار ہے۔ اس نے مجھے سہل پسندی سے باہر نکال کر ایک نئی دنیا سے روشناس کرایا ہے۔ یہ میری زندگی کا سب سے خوبصورت مرحلہ ہے۔
دیپیکا نے فلم انڈسٹری میں خواتین کے ساتھ ہونے والے غیر مساوی سلوک پر بھی کہا کہ “بہت سے مرد اداکار دن میں صرف آٹھ گھنٹے کام کرتے ہیں اور ویک اینڈ پر چھٹیاں لیتے ہیں، لیکن ان پر کوئی سوال نہیں اٹھاتا۔انہوں نے کہا کہ جب خواتین ایسا ہی کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق خواتین اداکاراؤں کو تنخواہ اور کام کے انداز کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بالی ووڈ میں کام کے غیر پیشہ ورانہ ماحول پر بات کرتے ہوئے دیپیکا نے کہا انڈسٹری میں بہت سے بے رحم اور غیر ذمہ دار لوگ ہیں۔ یہاں ‘کچھ بھی چلتا ہے’ والا کلچر عام ہے، جو ختم ہونا چاہیے۔ ہمیں انڈسٹری کہا جاتا ہے، لیکن ہم کسی پروفیشنل انڈسٹری کی طرح کام نہیں کرتے۔ سب جانتے ہیں یہ حالات کس قدر بدتر ہیں۔
دیپیکا پڈوکون ماضی میں خود ڈپریشن کا شکار رہ چکی ہیں اور اس موضوع پر مسلسل آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری انڈسٹری میں ڈپریشن، انزائٹی اور دیگر ذہنی بیماریوں کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جیسے یہ کوئی مسئلہ ہی نہ ہو۔











