اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی بیرونِ ملک منتقلی سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی منافع کی منتقلی میں 86 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی سے ستمبر 2025 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مجموعی طور پر 75 کروڑ 17 لاکھ ڈالر منافع کی مد میں بیرونِ ملک منتقل کیے، جب کہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ رقم 40 کروڑ 45 لاکھ ڈالر رہی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 کے مہینے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 15 کروڑ 90 لاکھ ڈالر منافع کی مد میں واپس بھیجے، جو کہ اگست 2025 میں 24 کروڑ 87 لاکھ ڈالر تھا۔ اس طرح ماہانہ بنیاد پر 54 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ تاہم سالانہ بنیاد پر اگر ستمبر 2024 سے موازنہ کیا جائے تو منافع کی منتقلی میں 22.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ غیر ملکی منافع کی منتقلی میں چین سب سے آگے رہا۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں چینی سرمایہ کاروں نے 20 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا منافع واپس اپنے ملک منتقل کیا۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکی ادارے اور کمپنیز بدستور اپنے منافع بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں، اگرچہ کچھ مہینوں میں اس میں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔











