کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کینیڈا کا دورہ کرتے ہیں تو انہیں عالمی عدالت انصاف (آئی سی سی) کے جاری کردہ گرفتاری وارنٹ کے تحت حراست میں لیا جائے گا۔
انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) نے نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری وارنٹ جاری کر رکھا ہے۔ تاہم، اسرائیل نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں واضح طور پر کہا کہ وہ سابق وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے آئی سی سی کے فیصلوں کا احترام کریں گے۔ جب ان سے دو بار پوچھا گیا کہ کیا وہ نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ کو نافذ کریں گے، تو دونوں مرتبہ انہوں نے دوٹوک انداز میں “ہاں” میں جواب دیا۔
مارک کارنی نے کہا کہ ان کی حکومت کی پالیسی میں فلسطین کو باضابطہ تسلیم کرنا شامل ہے۔ ان کے مطابق، مقصد یہ ہے کہ اسرائیل اور فلسطین دونوں امن و سلامتی کے ساتھ رہیں۔
وزیر اعظم مارک کارنی نے اسرائیلی حکومت کی موجودہ پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایسے اقدامات کر رہا ہے جو فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو ختم کرنے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ یہ طرزِ عمل کینیڈا کی روایتی خارجہ پالیسی کے بھی خلاف ہے۔
کارنی نے مزید کہا کہ کینیڈا، اسپین، فرانس، برطانیہ سمیت اقوام متحدہ کے 150 سے زائد ممالک فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں۔ ان تمام ممالک کا مشترکہ مقصد ایک آزاد، محفوظ اور پائیدار فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔
دوسری جانب، کینیڈا کے اس اعلان پر اسرائیلی حکومت نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان شوش بیدروسیان نے کہا کہ وزیر اعظم مارک کارنی کو نیتن یاہو کی گرفتاری سے متعلق بیان واپس لینا چاہیے اور ان کا استقبال کرنا چاہیے، کیونکہ نیتن یاہو مشرقِ وسطیٰ کے واحد یہودی جمہوری ملک کے منتخب رہنما ہیں۔











