ایک طویل مدتی تحقیق کے مطابق روزانہ زیادہ قدم چلنا الزائمر سے جڑے دماغی تغیرات کو سست کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ بزرگ افراد جن کے دماغ میں بیٹا ایمائلائیڈ نامی نقصان دہ پروٹین کی مقدار زیادہ تھی۔ اگر وہ جسمانی طور پر فعال رہے تو ان کی یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں نسبتاً دیر سے متاثر ہوئیں۔
یہ تحقیق 14 سال تک جاری رہی، جس میں تقریباً 300 بزرگ افراد کو شامل کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ روزانہ 5000 سے 7500 قدم چلتے تھے،ان کی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کی رفتار غیر فعال افراد کے مقابلے میں تقریباً آدھی تھی۔
تحقیق کے مطابق 10 ہزار قدم روزانہ چلنے جیسا ہدف حاصل کرنا ضروری نہیں۔ بلکہ معتدل جسمانی سرگرمی بھی دماغی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
نیچر میڈیسن نامی جریدے میں شائع تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ورزش سے بیٹا ایمائلائیڈ کی پیداوار پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا،تاہم یہ تاو نامی ایک اور نقصان دہ پروٹین کی افزائش کو سست کرتی ہے ۔ یہ وہ مادہ ہے جو دماغی خلیوں کے براہِ راست نقصان سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
تحقیق کی مصنفہ ڈاکٹر وینڈی یاو نے کہا کہ ہم بہتر علاج اور مؤثر ادویات پر کام کر رہے ہیں، لیکن ہمیں ان طرزِ زندگی کے عوامل کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، جنہیں لوگ خود اختیار کر کے اپنی دماغی صحت کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
اگرچہ دوائیں الزائمر کے پھیلاؤ کو سست کرنے کے لیے دستیاب ہیں،لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش اور جسمانی سرگرمی جیسی طرزِ زندگی کی عادات اب بھی علاج کا ایک اہم جزو ہیں۔











