اہم ترین

دوڑنا چھوڑیں، وزن اٹھائیں — موٹاپا اور شوگر بھگائیں: نئی تحقیق

اگر آپ روزانہ دوڑ کر “فٹ” رہنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ذرا رک جائیے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شوگر اور موٹاپے کے خلاف وزن اٹھانا دوڑنے سے کہیں زیادہ طاقتور دوا ثابت ہوسکتا ہے۔

ورجینیا ٹیک یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے چوہوں پر ایک دلچسپ تجربہ کیا۔ کچھ چوہوں کو ہائی فَیٹ ڈائٹ دی گئی اور ان میں سے کچھ کو دوڑنے کا پہیہ دیا گیا، جبکہ دوسروں کو منّی جم بنا دیا گیا جہاں انہیں وزن اٹھا کر کھانا حاصل کرنا پڑتا تھا۔ یعنی چوہے بھی اسکواٹ لگا کر ناشتہ کرتے تھے۔

آٹھ ہفتوں بعد پتا چلا کہ جن چوہوں نے وزن اٹھایا تھا، ان کے پیٹ اور چربی میں زبردست کمی آئی اور ان کی انسولین سگنلنگ بھی بہتر ہوئی۔ یعنی چوہوں کے “ایبز” تو نہیں بنے، مگر ان کی شوگر بالکل کنٹرول میں آگئی۔

تحقیق کے سربراہ پروفیسر ژین یان نے کہا، نتیجہ صاف ہے کہ اگر ہو سکے تو دوڑیں بھی اور وزن بھی اٹھائیں ، لیکن اگر دوڑنے کا دل نہیں کرتا، تو کوئی بات نہیں، ڈمبل ہی اٹھالیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزن اٹھانے والے لوگ نہ صرف مضبوط نظر آتے ہیں بلکہ ان کے جسم کے اندر بھی شوگر کنٹرول سسٹم مضبوط ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں اس وقت کروڑوں افراد ذیابیطس کے شکار ہیں، مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وزن اٹھانا ان کے لیے نئی امید بن سکتا ہے۔

پروفیسر ژین یان نے مذاقاً کہا کہ اب اگر کوئی کہے کہ جم جانے کا فائدہ نہیں، تو اسے بتائیں یہ نہ صرف جسم بناتا ہے بلکہ شوگر بھی بھگاتا ہے۔

پاکستان