بین الاقوامی طبی امدادی تنظیم میڈیسنز سان فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان حکام نے ہرات میں خواتین مریضوں، ان کی تیمارداروں اور اسپتال کے عملے کو ہدایت دی ہے کہ وہ سرکاری اسپتالوں میں آتے وقت برقع پہننا لازمی بنائیں۔
بی بی سی میں شائع خبر کے مطابق ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے نئے احکامات 5 نومبر سے نافذ کیے ہیں۔
ایم ایس ایف کی افغانستان میں پروگرام مینیجر سارہ چیٹو کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خواتین کی زندگیوں پر منفی اثر پڑ رہا ہے اور یہ ان کی صحت کی سہولیات تک رسائی کو محدود کر رہا ہے۔
سارہ چیٹو کے بقول، طالبان اہلکار اسپتالوں کے باہر کھڑے ہو کر ان خواتین کو اندر داخل ہونے سے روکتے ہیں جنہوں نے برقع نہیں پہنا ہوتا، جس کی وجہ سے بعض ہنگامی طبی مریضات کو بروقت علاج نہیں مل پاتا۔
دوسری جانب طالبان حکومت کی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ترجمان سیف الاسلام خیبر نے ان الزامات کو بنیاد سے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو طبی مراکز میں جانے سے نہیں روکا جا رہا۔
البتہ مقامی ذرائع کے مطابق، شکایات اور دباؤ کے بعد بعض علاقوں میں ان پابندیوں میں جزوی نرمی ضرور کی گئی ہے، تاہم صورتحال اب بھی غیر واضح ہے۔











