اہم ترین

عدلیہ کا کردار پاکستان کی تاریخ میں ہر موڑ پر بھیانک اور سیاہ رہا ہے: خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عدلیہ کا کردار پاکستان کی تاریخ میں ہر موڑ پر بھیانک اور سیاہ رہا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں عدلیہ کا کردار کئی مواقع پر بھیانک اور سیاہ رہا ہے اور بعض ججز نے ہمیشہ مخصوص مقدمات میں فعال کردار ادا کیا۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی نااہلی اور ان کے خلاف سزاؤں کے لیے علیحدہ بینچ تشکیل دیے گئے جبکہ ہر سیاسی مقدمے میں چند مخصوص ججز سامنے آتے رہے۔ پاناما کیس سے شروع ہونے والا سلسلہ ایک منظم منصوبہ تھا، جس میں کچھ ججز، سابق حکمران اور دیگر عناصر شامل تھے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کینگرو کورٹس بنا کر نواز شریف کو نشانہ بنایا گیا۔عدلیہ نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے لے کر نواز شریف کی نااہلی تک متنازع کردار ادا کیا۔جب نواز شریف نشانے پر تھے، انہی ججز کو کوئی اعتراض نہ تھا، لیکن آج ترمیم پر ان کی غیرت جاگ گئی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جسٹس اطہر من اللہ ماضی میں پرویز مشرف کی صوبائی کابینہ کا حصہ رہے تھے، جبکہ ان کی والدہ جنرل ضیاء الحق کی مجلسِ شوریٰ میں شامل تھیں۔ ستائیسویں آئینی ترمیم نے عدالتی نظام کی ہیئت درست کردی ہے اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو تقویت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اختیارات پر کسی قسم کی انکروچمنٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔

خواجہ آصف نے عدلیہ کے بعض ججز پر سیاسی طرزِ عمل اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب ججز کی دم پر پاؤں آیا تو شعر و شاعری شروع ہوگئی، اب جمہوریت بھی یاد آ رہی ہے۔ایک رات میں 52 قوانین منظور ہوئے، اس وقت جمہوریت کہاں تھی؟

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دہشت گرد حملوں پر بعض ججز کی طرف سے ایک لفظ کی مذمت تک نہ کی گئی۔ یہ ججز طے کریں کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ۔

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ڈھائی ٹوٹروں کا گروپ آج احتجاج کر رہا ہے، مگر ان ہی کے دور میں چوری اور ڈاکہ زنی کا بازار گرم تھا۔آج پاکستان آئینی راہ پر چل پڑا ہے، جبکہ ہماری افواج سرحدوں اور فضاؤں کی حفاظت میں مصروف ہیں۔

پاکستان