اہم ترین

گردے، کینسر، ٹی بی اور دیگر امراض کا شکار افراد پر حج کرنے پر پابندی

سعودی حکومت نے آئندہ سال کے حج میں شرکت کے لیے صحت کے سخت معیار متعارف کراتے ہوئے کئی سنگین طبّی مسائل کے شکار افراد کی شمولیت پر پابندی لگا دی ہے۔

وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے جاری نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ سعودی وزارتِ صحت کی سفارشات کے مطابق کیا گیا ہے تاکہ حج کے دوران عازمین کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق وہ افراد جو گردوں کی شدید خرابی کے باعث ڈائیلاسس کے محتاج ہوں، دل کے ایسے مریض جو ہلکی جسمانی کوشش بھی برداشت نہ کر سکیں، یا پھیپھڑوں کے دائمی امراض میں مبتلا ہوں جنہیں مسلسل یا وقفے وقفے سے آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہو—انہیں حج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جگر کی شدید ناکامی اور سیروسس کے مریض بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔

اعصابی اور دماغی امراض کے شکار افراد جیسے ڈیمینشیا، یادداشت کی شدید کمزوری، الزائمر، رعشے کے مریض اور شدید جسمانی معذوری رکھنے والے افراد کو بھی اس سال حج کی ادائیگی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح حمل کے آخری مہینوں میں موجود خواتین یا ایسی حاملہ خواتین جنہیں پیچیدگیوں کا سامنا ہو، انہیں بھی سفر کی اجازت نہیں ملے گی۔

متعدی بیماریوں کے حوالے سے بھی سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ کالی کھانسی، متعدی پھیپھڑوں کی تپ دق (اوپن ٹی بی)، وائرل ہیمرجک فیور اور دیگر ایسی بیماریاں جو بڑے مجمع میں خطرے کا باعث بن سکتی ہیں، رکھنے والے افراد کو حج کی ادائیگی سے روک دیا جائے گا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ کینسر کے آخری مراحل کے مریض اور وہ افراد جو کیموتھراپی، ریڈیولوجی یا بائیولوجیکل علاج سے گزر رہے ہوں، وہ بھی آئندہ سال حج کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد لاکھوں عازمینِ حج کی صحت و حفاظت کو ہر ممکن حد تک یقینی بنانا ہے۔

پاکستان