اہم ترین

مودی نےٹرمپ کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے: اسٹریٹجک خودمختاری کا پول کُھل گیا

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے بالآخر ٹرمپ انتظامیہ کے شدید دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور روسی تیل کی خریداری اچانک بند کر کے اپنی نام نہاد اسٹریٹجک خودمختاری کا دعویٰ خود ہی مشکوک بنا دیا۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی ارب پتی مکیش امبانی کی ملکیت بھارت کی سب سے بڑی انرجی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز نے ایک دہائی پر مشتمل روسنیفٹ کے ساتھ تیل سپلائی کا معاہدہ ترک کرتے ہوئے یکم دسمبر سے اپنی جامنگر ریفائنری کو مکمل طور پر غیر روسی خام تیل پر منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں اور ٹرمپ حکومت کے 50 فیصد درآمدی ٹیرف کی دھمکی نے ریلائنس کے 33 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے روسی تیل سودوں کو ’’کاغذ کا ٹکڑا‘‘ بنا دیا۔

امریکی حکام نے یوکرین جنگ میں بھارت کے روس نواز رویے پر سخت نارضگی ظاہر کرتے ہوئے مودی سرکار پر براہِ راست دباؤ ڈالا۔ حتیٰ کہ ٹرمپ کے قریب مشیروں نے یوکرین جنگ کو “مودی کی جنگ” قرار دے کر نئی دہلی کو سفارتی سطح پر شرمندگی سے دوچار کیا۔

رپورٹ کے مطابق بھارت روسی تیل سے گزشتہ برسوں میں اربوں ڈالر بچا چکا تھا، مگر امریکی دباؤ کے بعد وہ اب مشرق وسطیٰ اور ممکنہ طور پر امریکا سے مہنگا تیل خریدنے پر مجبور ہو گا، جس سے پیداواری لاگت میں واضح اضافہ متوقع ہے۔

رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ امریکی انتظامیہ نے دو ٹوک انداز میں کہہ دیا تھا کہ روسی تیل جاری رہنے کی صورت میں امریکا بھارت تجارتی معاہدے پر کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔

ریلائنس نے یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کم از کم 33 ارب ڈالر کا روسی تیل خریدا تھا، جو روس کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 8 فیصد بنتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ریلائنس کا یہ فیصلہ صرف ایک کارپوریٹ یوٹرن نہیں بلکہ بھارت کی اسٹریٹجک خود مختاری کے بیانیے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بظاہر خودمختاری کا نعرہ لگانے والی مودی حکومت آخرکار عالمی طاقت کی معاشی و سیاسی دباؤ کے سامنے پسپا ہو گئی۔

پاکستان