معروف گلوکار عاطف اسلم نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی فنی زندگی، شہرت اور معاوضے سے متعلق ہونے والی تنقید پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ صرف 18 برس کی عمر میں انہوں نے دنیا کو جیتنے کا ہنر سیکھ لیا اور کم وقت میں وہ مقام حاصل کر لیا جس کا خواب ہر نوجوان گلوکار دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق بہت سے لوگ کم عمری میں کنسرٹس، شہرت اور گانوں کی فروخت چاہتے ہیں، اور وہ ان سب تجربات سے گزر چکے ہیں۔
عاطف اسلم نے کہا کہ ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جب انسان کو لگتا ہے کہ کامیابی کافی نہیں، مزید آگے بڑھنے کی خواہش ہمیشہ رہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مقابلے کے لیے نہیں بلکہ کامیابی کا لطف اٹھانے کے لیے مزید بہتر کام کرتے ہیں۔
معاوضے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ہر شو میں جانے کی ضرورت نہیں ہوتی، اور اگر کوئی ان پر بھاری معاوضہ طلب کرنے کا الزام لگاتا ہے تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ حقیقت میں انہیں اپنے پروگرام میں بلانا چاہتے ہیں۔ عاطف کے مطابق ایسے لوگ شاید دنیا کو یہ تاثر بھی دینا چاہتے ہیں کہ وہ مغرور ہیں۔
گلوکار نے کہا کہ اللہ نے انہیں عزت اور احترام سے نوازا ہے، تاہم مصروفیات یا دیگر وجوہات کے باعث وہ ہر پروگرام میں شرکت نہیں کر پاتے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ زیادہ معاوضے کی باتیں کرنے والوں سے واقف ہیں مگر انہیں اس پر کوئی شرمندگی نہیں، اور وہ ایسے افراد کو جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔
عاطف اسلم نے نام لیے بغیر بتایا کہ انہوں نے لوگوں کے رویوں میں نمایاں تبدیلی دیکھی ہے—وہ صرف انٹرویو یا شو مکمل ہونے تک اچھے رہتے ہیں، لیکن وہ ان کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔











