اہم ترین

متوفی شخصیات کی ڈیپ فیک ویڈیوز پر نیا تنازع: اےآئی پر سوال کھڑے ہونے لگے

مصنوعی ذہانت سے بنی انتہائی حقیقت کے قریب ویڈیوز، جن میں انتقال کرنےجانےولای مشہور شخصیات کو دکھایا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہیں اور ایک سنجیدہ بحث کو جنم دے رہی ہیں۔

اوپن اے آئی کی ویڈیو ایپ سورا کے ذریعے صارفین نے ونسٹن چرچل، مائیکل جیکسن، ایلوس پریسلے اور برطانیہ کی سابق ملکہ الزبتھ دوم جیسے تاریخی اور مشہور افراد کی جعلی ویڈیوز بنائیں۔ بعض ویڈیوز مزاحیہ ہیں، جیسے ملکہ کا اسکوٹر پر ریسلنگ میچ میں پہنچنا یا سپر مارکیٹ میں چیز پف کی تعریف کرنا، مگر کئی ویڈیوز لوگوں کے لیے تکلیف دہ ثابت ہو رہی ہیں۔

اکتوبر میں اوپن اے آئی کو مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی ویڈیوز بلاک کرنا پڑیں، جب ان کے خاندان نے بے حرمتی پر احتجاج کیا۔ کچھ ویڈیوز میں انہیں ایسے الفاظ اور حرکات سے جوڑا گیا جو انہوں نے کبھی نہیں کیں۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال “انکینی ویلی” کی مثال ہے، جہاں مصنوعی چیزیں اتنی حقیقی لگتی ہیں کہ خوف اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ ماہر نفسیات کانسٹینس ڈی سینٹ لارینٹ کے مطابق، اگر کسی کو اپنے مرحوم عزیز کی ایسی ویڈیوز ملیں تو یہ شدید ذہنی صدمے کا باعث بن سکتا ہے۔

مرحوم اداکار روبن ولیمز، جارج کارلن اور میلکم ایکس کے بچوں نے بھی اپنے والدین کی اےآئی ویڈیوز کی سخت مذمت کی ہے۔

روبن ولیمز کی بیٹی زیلڈا نے کہاکہ براہِ کرم میرے والد کی اےآئی ویڈیوز بھیجنا بند کریں، یہ اذیت ناک ہے۔

اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ حال ہی میں فوت ہونے والی شخصیات کے خاندان اب درخواست دے سکتے ہیں کہ ان کی شکل و صورت کو استعمال نہ کیا جائے، مگر ناقدین کے مطابق یہ اقدامات ناکافی ہیں۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مصنوعی مواد کا پھیلاؤ نہ رکا تو لوگ سوشل میڈیا اور اصل خبروں پر سے اعتماد کھو سکتے ہیں۔

پاکستان