اہم ترین

بالی ووڈ کی ناکامیاں : اداکاروں کے نخروں پر سوال اٹھنے لگے

بالی ووڈ ہمیشہ سے باکس آفس پر غیر یقینی کا شکار رہا ہے، تاہم فلمی پروڈیوسرز کا کہنا ہے کہ آج کل فلموں کے خسارے کی اصل وجہ کہانی یا تخلیقی ناکامی نہیں بلکہ بڑے ستاروں کے بے قابو اخراجات ہیں۔

معروف پروڈیوسر رمیش تورانی کے مطابق مسئلہ پروڈکشن لاگت نہیں بلکہ اداکاروں کی بھاری فیس اور اضافی مطالبات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک اداکار کی فیس 100 کروڑ بھارتی روپے سے زائد ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے ساتھ فرسٹ کلاس سفر، فائیو اسٹار ہوٹل، ذاتی ٹریلرز اور محدود اوقاتِ کار جیسے مطالبات بھی معمول بن چکے ہیں۔

فلمسازوں کے مطابق اداکار اب شوٹنگ پر 10 سے 15 افراد پر مشتمل ذاتی عملہ لے کر آتے ہیں، جن میں میک اپ آرٹسٹ، ہیئر ڈریسر، اسٹائلسٹ، جم ٹرینر اور اسسٹنٹس شامل ہوتے ہیں، اور ان سب کے اخراجات پروڈیوسر کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

سینئر پروڈیوسر مکیش بھٹ نے ان مطالبات کو “نازیبا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ لگژری سہولیات فلم کے تخلیقی معیار میں کوئی خاص اضافہ نہیں کرتیں، لیکن بجٹ کو غیر متوازن کر دیتی ہیں۔

ٹریڈ اینالسٹ راج بنسل کے مطابق پہلے اداکار ایک وینٹی وین بھی شیئر کر لیتے تھے، مگر اب ہر بڑا اسٹار الگ وین مانگتا ہے، جس کا کرایہ شوٹنگ کے دوران 10 لاکھ روپے تک ہو سکتا ہے۔

کوویڈ وبا کے بعد اس بحران میں مزید اضافہ ہوا۔ اسٹریمنگ پلیٹ فارمز نے ابتدا میں فلمیں مہنگے داموں خریدیں، مگر جب یہ سلسلہ ختم ہوا تو پروڈیوسرز کی آمدن کم ہو گئی، جبکہ اداکاروں کے مطالبات برقرار رہے۔

اداکار و فلمساز عامر خان نے بھی ستاروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ کروڑوں کماتے ہیں، پھر بھی پروڈیوسرز پر بوجھ ڈالتے ہیں۔اداکاروں کی خودداری کہاں گئی؟

بعض اداکاروں نے مثال قائم بھی کی۔ کارتھک آریان نے 2023 کی فلم شہزادہ میں ناکامی کے بعد اپنی فیس چھوڑ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فلم منافع نہ دے تو اداکار کو بھی قربانی دینی چاہیے۔

تاہم بڑے بجٹ کی فلموں میں نقصان کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ 2024 کی فلم بڑے میاں چھوٹے میاں، جس پر تقریباً 400 کروڑ بھارتی روپےخرچ ہوئے، باکس آفس پر بری طرح ناکام رہی، اور اطلاعات کے مطابق پروڈیوسرز کو قرض چکانے کے لیے جائیداد گروی رکھنا پڑی۔

اداکار و پروڈیوسر ویوک واسوانی کا کہنا ہے کہ اگر بڑااداکار بجٹ پر بوجھ بنے تو نئے اداکاروں کے ساتھ کام کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر اسکرپٹ مضبوط ہو تو اسٹار کی ضرورت نہیں۔

پاکستان