اہم ترین

خواتین کا پہلا استحصال گھر سے شروع ہوتا ہے: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کہا ہے کہ مردوں کو جنس کی بنیاد پر کسی قسم کی فضیلت حاصل نہیں، بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آئین، قانون اور مذہب تینوں مساوات کا درس دیتے ہیں۔

کراچی میں نیشنل ورکنگ ویمنز ڈے کی مناسبت سے سیمنار سےخطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ خواتین کے حقوق دراصل انسانی حقوق کا ہی تسلسل ہیں، جو کسی صورت ناقابلِ تنسیخ ہیں۔ ان کے مطابق ان حقوق کے بغیر معاشرے میں عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنا ممکن نہیں۔

چیف جسٹس ظفر احمد راجپوت کا کہنا تھا کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی تخلیقات پر نظر ڈالیں تو سب سے زیادہ دلکش تخلیق عورت ہے، اور یہ بات کسی مثال کے طور پر نہیں بلکہ ایک حقیقت کے طور پر کہی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا مذہب بھی جنس کی بنیاد پر کسی کو برتری دینے کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوئی بھی پالیسی اس وقت تک جامع نہیں ہو سکتی جب تک اس میں خواتین کی شمولیت کو لازمی نہ بنایا جائے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25، 34 اور 35 بھی اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ خواتین کو تمام قومی، سماجی اور معاشی معاملات میں شامل رکھا جائے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمیں خواتین کے حقوق کو سماجی انصاف کے وسیع تر دائرے میں دیکھنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم اس کے باوجود پاکستان میں خواتین کی مجموعی صورتحال نہایت پیچیدہ ہے۔

انہوں نے سماجی رویّوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب ایک ماں یہ سوچتی ہے کہ بیٹا بڑا ہو کر کمائے گا اور بیٹی تو پرایا دھن ہے، تو وہیں سے امتیازی سلوک کی بنیاد پڑ جاتی ہے، جو آگے چل کر پورے معاشرے میں عدم مساوات کو جنم دیتی ہے۔

پاکستان