اہم ترین

ہمیں گرین لینڈ چاہیے: وینزویلا کے بعد ٹرمپ کا نیا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانا ان کے قومی سلامتی ایجنڈے کا اہم ہدف ہے۔ ڈنمارک اور یورپی یونین کی سخت تنقید کے باوجود ٹرمپ اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں، جس کے بعد عالمی سفارتی حلقوں میں ایک نئے بحران کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ایئر فورس ون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے، اور ڈنمارک اس کی حفاظت نہیں کر سکتا۔

ٹرمپ کے اس بیان نے اس وقت مزید شدت اختیار کر لی جب ان کے قریبی مشیر اور وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر کی اہلیہ کیٹی ملر نے سوشل میڈیا پر گرین لینڈ کے پرچم کو امریکی پرچم کے رنگوں میں دکھاتے ہوئے جلد ہی لکھا۔ اس علامتی پیغام کو یورپ میں امریکی عزائم کا کھلا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا کہ امریکہ کو گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنا چاہیے، سراسر مضحکہ خیز ہے۔ امریکہ کو اپنے تاریخی اتحادی کو دھمکانا بند کرنا چاہیے۔

یورپی یونین کے سفارتی ذرائع کے مطابق ٹرمپ کے بیانات نے نیٹو ممالک میں بے چینی پیدا کر دی ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ امریکہ نے حال ہی میں وینزویلا میں فوجی کارروائی کر کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا اور اس تیل سے مالا مال ملک پر غیر معینہ مدت کے لیے کنٹرول سنبھالنے کا اعلان کیا ہے۔

گرین لینڈ کے وزیرِاعظم جینس فریڈرک نیلسن نے کیٹی ملر کی پوسٹ کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوام اور عوام کے درمیان تعلقات باہمی احترام اور بین الاقوامی قانون پر قائم ہوتے ہیں، نہ کہ ایسی علامتی حرکات پر جو ہمارے وقار اور حقوق کو نظرانداز کریں۔ تاہم انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ گرین لینڈ برائے فروخت نہیں اور نہ ہی اس کا مستقبل سوشل میڈیا پوسٹس سے طے ہوگا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ میں موجود اہم معدنی ذخائر جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ اسی لیے وہ اس خطے کو امریکی دفاعی حکمتِ عملی کا لازمی حصہ قرار دیتے ہیں۔

جب ایک امریکی جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ وینزویلا میں فوجی کارروائی کے بعد کیا گرین لینڈ بھی اسی طرز کی کسی کارروائی کی زد میں آ سکتا ہے تو انہوں نے مبہم جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ دوسروں پر منحصر ہے کہ وہ اسے کیسے دیکھتے ہیں، لیکن ہمیں گرین لینڈ ضرور چاہیے۔

امریکا میں ڈنمارک کے سفیر جیسپر مولر سورینسن نے کیٹی ملر کی پوسٹ کے جواب میں کہا کہ ڈنمارک ایک نیٹو رکن ہے اور اس نے آرکٹک میں اپنی سیکیورٹی نمایاں طور پر بڑھائی ہے۔

مولر سورینسن نے زور دیا کہ ہم قریبی اتحادی ہیں اور ہمیں اسی حیثیت سے مل کر کام کرنا چاہیے۔

پاکستان