بنگلا دیشی حکومت نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے اسٹار فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل 2026 سے باہر کیے جانے کے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے پورے ملک میں آئی پی ایل کی نشریات پر فوری پابندی لگا دی ہے۔ 2008 سے اب تک یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلا دیش میں کسی عالمی کرکٹ ٹورنامنٹ کو دکھانے پر پابندی عائد کی گئی ہو۔
بنگلا دیش کا غم و غصہ: بنگلا دیشی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق، بی سی سی آئی نے مستفیض الرحمان کو نکالنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی، جس سے بنگلا دیشی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حکومت نے اسے عوامی مفاد میں لیا گیا فیصلہ قرار دیا ہے۔
سیاسی کشیدگی اور کرکٹ: ذرائع کے مطابق، یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کولکتہ نائٹ رائڈرز (کے کے آر) نے بی سی سی آئی کے دباؤ پر مستفیض کو ریلیز کیا۔ دوسری جانب، بھارت میں حالیہ دنوں میں بنگلا دیش میں اقلیتوں کے مبینہ مسائل پر سیاسی اور روحانی پیشواؤں کی جانب سے شاہ رخ خان اور ان کی ٹیم کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، جس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں سرد مہری آگئی ہے۔
ورلڈ کپ بھی خطرے میں! معاملہ صرف آئی پی ایل تک محدود نہیں رہا، بلکہ بنگلا دیش نے آئی سی سی (آئی سی سی) سے باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے کہ فروری میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلا دیش کے میچز بھارت سے منتقل کر کے سری لنکا بھیج دیے جائیں۔ بنگلا دیشی ٹیم نے بھارت جا کر کھیلنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
کھیل کے میدان سے شروع ہونے والی یہ چنگاری اب ایک بڑی سفارتی جنگ میں بدلتی نظر آرہی ہے، جس نے کرکٹ شائقین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔











