اہم ترین

عثمان خواجہ کا کرکٹ سے الوداع: سڈنی گراؤنڈ میں سجدہ شکر

آسٹریلیا کے سینئر بلے باز عثمان خواجہ نے اعتراف کیا ہے کہ اپنے شاندار ٹیسٹ کریئر کے آخری میچ کے دوران اپنے جذبات پر قابو رکھنا ان کے لیے بے حد مشکل ہو گیا تھا۔ 39 سالہ عثمان خواجہ نے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں اپنے آخری ٹیسٹ کےاختتام پر سجدہ شکر ادا کیا۔۔

جب عثمان خواجہ آخری بار بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے تو انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا، مہمان ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس نے آگے بڑھ کر ان سے مصافحہ کیا۔ یہ منظر اس تاریخی لمحے کو مزید یادگار بنا گیا۔

اگرچہ ان کا الوداعی میچ بیٹنگ کے لحاظ سے یادگار نہ بن سکا اور وہ صرف 6 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے، لیکن عثمان خواجہ نے کہا کہ یہ دن ان کی زندگی کے ناقابلِ فراموش لمحات میں شامل ہو گیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ آسٹریلیا نے پانچویں ایشز ٹیسٹ میں پانچ وکٹوں سے فتح حاصل کر کے سیریز 4-1 سے اپنے نام کر لی۔

فاکس اسپورٹس سے گفتگو میں عثمان خواجہ نے کہا کہ یہ لمحہ میرے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔ میری بس ایک ہی خواہش تھی کہ ہم جیتیں۔ آخری میچ میں فتح حاصل کرنا اور ساتھیوں کے ساتھ جشن منانا میرے لیے سب سے بڑی خوشی ہے۔

انہوں نے مزید کہا پورے ٹیسٹ میچ کے دوران میں جذبات پر قابو نہیں رکھ پا رہا تھا۔ توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ میں خود کو پُرسکون ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن اندر سے سب کچھ مختلف تھا۔

یہ وہی میدان تھا جہاں 2011 میں انگلینڈ کے خلاف ہی عثمان خواجہ نے اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز کیا تھا، اور اب اسی مقام پر انہوں نے کرکٹ کو الوداع کہا۔

اسلام آباد میں پیدا ہونے والے عثمان خواجہ بچپن میں آسٹریلیا منتقل ہوئے۔ انہوں نے کئی مشکلات کے باوجود آسٹریلیا کے لیے کھیل کر تاریخ رقم کی اور ملک کے پہلے پاکستان نژاد اور مسلمان ٹیسٹ کرکٹر بنے۔

ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ آسٹریلیا کے فرسٹ کلاس کرکٹ میں واحد ایشیائی کھلاڑی تھے، اور آج انہیں ایک ایسے رول ماڈل کے طور پر دیکھا جاتا ہے جنہوں نے دوسروں کے لیے راستے کھولے۔

ایک لائسنس یافتہ پائلٹ ہونے کے ساتھ ساتھ عثمان خواجہ نے اپنے ٹیسٹ کریئر میں 16 سنچریاں بنائیں، 43 سے زائد کی اوسط سے 6 ہزار سے زیادہ رنز اسکور کیے۔ انہوں نے 40 ون ڈے اور 9 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز بھی کھیلے۔

اپنی ذاتی زندگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اپنے خاندان کھو دیے، میں خوش قسمت ہوں کہ میرے والدین آج بھی میرے ساتھ ہیں۔ میری فیملی، بیوی، بچے اور ایک اور آنے والا ہے۔ کرکٹ سے محبت ہے، لیکن کرکٹ سے باہر کی زندگی ہمیشہ زیادہ اہم رہی ہے۔

پاکستان