اہم ترین

ایران میں پھیلتا احتجاج: پاسداران انقلاب کی مظاہرین کو سخت ترین وارننگ

ایران میں حالیہ برسوں کے سب سے بڑے احتجاجی لہر کو دبانے کے لیے ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے سخت ترین انتباہ جاری کرتے ہوئے ملک کی سلامتی کو اپنی “ریڈ لائن” قرار دے دیا ہے۔

اے ایف پی اور دیگر بین الاقوامی خبر ایجنسیوں کے مطابق ایران کے مختلف شہروں میں پھیلتے حالیہ پر تشدد واقعات کا آغاز بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف احتجاج سے شروع ہوا تھا، اب گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران کے بیشتر حصوں میں پھیل چکا ہے۔

ان مظاہروں نے ایک سنگین سیاسی رخ اختیار کر لیا ہے اور مظاہرین کی جانب سے مذہبی حکومت کے خاتمے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک 220 سے زائد مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ کی خدمات معطل ہیں۔

عالمی ردعمل اور امریکی مداخلت ایران کی اس داخلی صورتحال پر عالمی برادری بالخصوص امریکہ کی گہری نظر ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو نئی وارننگ دی ہے، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے “بہادر ایرانی عوام” کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب تہران حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل پر “فسادات” کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

سابق شاہِ ایران کے حامیوں نے بھی یورپی ممالک میں ایرانی سفارت خانوں کے باہر احتجاج شروع کر دیا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کے قریب واقع شہر کرج میں مظاہرین نے ایک بلدیاتی عمارت کو آگ لگا دی، جسے حکام نے “شرپسندوں” کی کارروائی قرار دیا ہے۔

مغربی ایران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باوجود عینی شاہدین نے تصدیق کی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے دستے سڑکوں پر تعینات ہیں اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دہشت گرد گروہ فوجی ٹھکانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بیان میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کی کامیابیوں کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔

اس حوالے سے ایرانی فوج (جو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے تحت کام کرتی ہے) نے بھی پاسدارانِ انقلاب کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اسٹریٹجک انفراسٹرکچر ااور قومی مفادات کے تحفظ کا عہد کیا ہے۔

پاکستان