قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز اور لیوی چارجز کی تفصیلات ایوان کے سامنے پیش کر دیں۔
وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ پٹرولیم لیوی اور کلائمنٹ سپورٹ لیوی (سی ایس ایل) 1961 کے آرڈیننس کے قانونی فریم ورک کے تحت وصول کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرنس آئل پر پٹرولیم لیوی اور سی ایسایل یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ اس وقت ہائی سپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر 75 روپے 41 پیسے فی لیٹر پٹرولیم لیوی لی جا رہی ہے، جبکہ پٹرول پر 79 روپے 62 پیسے فی لیٹر پٹرولیم لیوی کے ساتھ 2.50 روپے سی ایس ایل بھی وصول کی جا رہی ہے، ان تمام چارجز کا اطلاق صارفین پر ہوتا ہے، وزیر پٹرولیم نے واضح کیا۔
مزید یہ کہ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں پر 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی بھی عائد کی جا رہی ہے، جس کا مقصد درآمدات کے اخراجات اور حکومتی ریونیو میں توازن قائم کرنا ہے، وزیر پٹرولیم نے ایوان کو بتایا۔
اسی دوران حکومت نے حالیہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مستقل رکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پٹرول کی قیمت 253.17 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 257.08 روپے فی لیٹر فی الحال برقرار رکھی جائے گی، اور اگلی پندرہ روز تک یہی نرخ صارفین پر لاگو رہیں گے۔
اس فیصلے کے ساتھ عوام کو وقتی ریلیف ملے گا، تاہم قیمتوں میں ممکنہ تبدیلیاں عالمی مارکیٹ کے حالات اور بین الاقوامی خام تیل کی قیمت پر منحصر ہیں











