اہم ترین

اے آر رحمان کو بالی ووڈ میں ہندو انتہا پسندی پر بولنا مہنگا پڑگیا؛ گلوکار کی بیٹیاں بھی سامنے آگئیں

حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اے آر رحمان نے کہا تھا کہ بھارت میں سیاسی طاقت کے توازن میں تبدیلی کے بعد انہیں ہندی فلم انڈسٹری میں پہلے کے مقابلے میں کم کام مل رہا ہے، اس کی ایک وجہ سماجی یا فرقہ وارانہ عنصر بھی ہو سکتا ہے۔ اس بیان کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

تنازع بڑھنے پر اے آر رحمان نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے وضاحت دی کہ بھارت ان کے لیے صرف ایک ملک نہیں بلکہ ان کا گھر، استاد اور تحریک ہے۔ ان کا مقصد ہمیشہ موسیقی کے ذریعے لوگوں کو جوڑنا اور ایک دوسرے کے لیے احترام پیدا کرنا رہا ہے۔

آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان کے حالیہ بیان پر سوشل میڈیا پر جاری شدید بحث کے دوران ان کی بیٹیاں خدیجہ رحمان اور رحیمہ رحمان کھل کر والد کے حق میں سامنے آ گئی ہیں۔

دونوں نے معروف ملیالم موسیقار کیلاش مینن کی ایک پوسٹ انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کی، جس میں اے آر رحمان کے بیان پر تحمل اور احترام برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔

کیلاش مینن کا کہنا تھا کہ اے آر رحمان کی دہائیوں پر محیط خدمات کو کسی ایک ذاتی رائے کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق رحمان محض ایک آواز نہیں بلکہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے بھارتی موسیقی کو عالمی سطح پر متعارف کروایا اور اپنی تخلیقات سے نسلوں کو متاثر کیا۔

خدیجہ رحمان نے نہ صرف کیلاش مینن کی پوسٹ شیئر کی بلکہ اس پر تالیاں، آگ اور دل کے ایموجیز کے ساتھ تبصرہ بھی کیا، جسے والد کے لیے کھلی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کیلاش مینن نے اپنی پوسٹ میں اے آر رحمان کو تمل ناڈو اور بھارت کے لیے شرمندگی قرار دینے والے سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جو لوگ رحمان کو کھل کر بات کرنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہ ایک بنیادی حقیقت کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اے آر رحمان نے اپنی رائے کا اظہار کیا، جو ان کا آئینی حق ہے، اور اختلاف رائے کے باوجود کسی کو اپنی بات کہنے سے نہیں روکا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر عزت یافتہ فنکار کو توہین آمیز القابات دینا، ان کے عقیدے پر سوال اٹھانا، ان کے کام کا مذاق اڑانا یا ان کے ذاتی تجربات کو نفرت انگیز انداز میں پیش کرنا تنقید نہیں بلکہ نفرت انگیز تقریر ہے۔

پاکستان