بالی ووڈ کے معروف اداکار گووندا نے اہلیہ سنیتا کے حالیہ بیانات پر پہلی بار کھل کر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف ایک منظم سازش جاری ہے، جس میں ان کے گھر والوں کو بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
گووندا نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایک دوست نے انہیں برسوں پہلے خبردار کیا تھا کہ ان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے، جو وقت کے ساتھ مزید گہری ہوتی چلی گئی۔
اداکار کے مطابق سازشوں میں اکثر خاندان بھی لپیٹ میں آ جاتا ہے، جس سے خوف اور دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ گووندا نے سنیٹا کے بارے میں کہا کہ وہ ذہین اور پڑھی لکھی خاتون ہیں اور ان کی باتوں میں زبان یا شعور کی کمی نہیں، مگر بعض اوقات اصل حقیقت سامنے نہیں آ پاتی۔
گووندا نے کہا کہ وہ اکثر خاموش رہتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ انہیں کمزور سمجھنے لگتے ہیں، لیکن اب وہ جواب دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق انہیں پہلے ہی بتایا گیا تھا کہ ایک مرحلے پر ان کے خاندان کو ہی ان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، اور یہی کچھ ہو رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں کام سے بھی دور کیا گیا اور ان کی فلموں کو مناسب مارکیٹ نہیں دی گئی، تاہم وہ اس پر رونا نہیں روتے کیونکہ وہ خود بھی کئی فلمیں چھوڑ چکے ہیں۔
اداکار نے کہا کہ خواتین کی سوچ مختلف ہوتی ہے اور سنیٹا اکثر کہتی ہیں کہ جو چاہیے وہ نہیں ملتا اور جو ملتا ہے وہ مطلوب نہیں ہوتا، مگر وہ شاید یہ نہ سمجھ سکیں کہ بعض اوقات ایک بڑے منصوبے کے تحت کسی شخص کو بدنام کیا جاتا ہے۔
گووندا نے مزید کہا کہ فلمی دنیا میں مقبولیت کے عروج پر پہنچنے کے بعد غیر متوقع لوگ اور حالات سامنے آتے ہیں۔ ان کے بقول شہرت اور دولت سب کچھ نہیں دیتی، بلکہ کئی آزمائشیں بھی ساتھ لاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ انہیں اور ان کے بچوں کو ان حالات سے نکال دے۔
اپنی بات کے اختتام پر گووندا نے کہا کہ وہ بہت جدوجہد کر چکے ہیں اور سادہ زندگی گزارنے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ انہیں اس حد تک نہ دھکیلا جائے کہ وہ گھٹ کر رہ جائیں، خاص طور پر اپنے ہی خاندان کے افراد سے انہوں نے یہ درخواست کی۔
واضح رہے کہ حال ہی میں سنیٹا نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ گووندا کو خود کو درست کرنے کی ضرورت ہے اور 63 برس کی عمر میں ایسے معاملات زیب نہیں دیتے۔ اس پر ردِعمل دیتے ہوئے گووندا نے کہا کہ انہوں نے ایک ہی شادی کی ہے اور چار دہائیوں سے ایک ہی رشتے میں ہیں، جبکہ فلم انڈسٹری میں کئی لوگ ایسے ہیں جن کی ایک سے زیادہ شادیاں ہیں مگر کوئی ان پر سوال نہیں اٹھاتا۔
گووندا کا کہنا تھا کہ وہ کسی کو تکلیف پہنچانا نہیں چاہتے اور اگر کسی کو ان کی بات سے دکھ ہوا ہو تو وہ معذرت خواہ ہیں، مگر جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔











