اہم ترین

پانی کا بحران نہیں اب پانی کا دیوالیہ پن، اقوام متحدہ کا نیا انتباہ

اقوام متحدہ کے ایک تحقیقی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک نئے اور خطرناک دور میں داخل ہو چکی ہے جسے عالمی سطح پر پانی کا دیوالیہ پن قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ دریا، جھیلیں اور زیرِ زمین آبی ذخائر اس رفتار سے ختم ہو رہے ہیں کہ قدرت انہیں دوبارہ بحال نہیں کر پا رہی۔

اقوام متحدہ کے یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ برائے پانی، ماحول اور صحت کی رپورٹ کے مطابق کئی دہائیوں سے پانی کے حد سے زیادہ استعمال، آلودگی، ماحولیاتی تباہی اور موسمیاتی دباؤ نے دنیا کے آبی نظام کو اس حد تک نقصان پہنچایا ہے کہ اب انہیں روایتی بحران کی اصطلاحات میں بیان کرنا ناکافی ہو چکا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانی کی قلت یا پانی کا بحران اب موجودہ صورتحال کو درست طور پر ظاہر نہیں کرتا، کیونکہ یہ اصطلاحات مستقبل کے خطرے کی نشاندہی کرتی تھیں، جبکہ دنیا عملی طور پر ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

اسی لیے رپورٹ میں پانی کے دیوالیہ پن کی اصطلاح تجویز کی گئی ہے، جس سے مراد وہ حالت ہے جہاں طویل مدت تک پانی کا استعمال اس کی قدرتی فراہمی سے زیادہ ہو جائے اور قدرتی نظام کو اس قدر نقصان پہنچے کہ سابقہ حالت میں واپسی ممکن نہ رہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کی بڑی جھیلیں مسلسل سکڑ رہی ہیں اور متعدد بڑے دریا سال کے کچھ حصے میں سمندر تک پہنچنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ گزشتہ پچاس برسوں کے دوران دنیا کے وسیع دلدلی علاقے ختم ہو چکے ہیں، جن کا رقبہ تقریباً چار سو دس ملین ہیکٹر بنتا ہے، جو یورپی یونین کے مجموعی رقبے کے قریب ہے۔

زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی بھی اس آبی دیوالیہ پن کی ایک واضح علامت ہے۔ دنیا کے تقریباً ستر فیصد بڑے آبی ذخائر، جو پینے اور زرعی آبپاشی کے لیے استعمال ہوتے ہیں، طویل المدتی کمی کا شکار ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایسے شہر بڑھ رہے ہیں جہاں طلب فراہمی سے بڑھ جاتی ہے اور پانی مکمل طور پر ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ 1970 کے بعد سے دنیا کے گلیشیئرز کا تیس فیصد سے زائد حصہ پگھل چکا ہے، جس سے وہ موسمی پگھلا ہوا پانی بھی کم ہو رہا ہے جس پر کروڑوں افراد انحصار کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق اس بحران کے اثرات دنیا کے ہر آباد براعظم میں نظر آ رہے ہیں، تاہم ہر ملک انفرادی طور پر پانی کے دیوالیہ پن کا شکار نہیں۔ یہ صورتحال ایک سخت انتباہ ہے کہ پانی سے متعلق پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو پانی کی قلت کو عارضی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا اور فوری فیصلے کرنے ہوں گے، کیونکہ تاخیر مزید ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

رپورٹ کا مقصد تمام آبی مسائل کی فہرست دینا نہیں بلکہ دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ عالمی پانی کا بحران ایک ایسی حد عبور کر چکا ہے جہاں واپسی ممکن نہیں رہی۔

پاکستان